صوبائی وزیر ریاض خان نے پی کے 25 میں دو بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر دیا
گدیزی سلارزی بوائز ڈگری کالج 33 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل، پیر بابا تا جوڑ سڑک پر 50 کروڑ روپے خرچ ہوں گے
بونیر (بیورو چیف اے آر عابد بونیری): صوبائی وزیر ریاض خان نے اتوار کے روز اپنے حلقہ انتخاب پی کے 25 میں دو بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، جن میں بوائز ڈگری کالج گدیزی سلارزی کی تکمیل اور پیر بابا تا جوڑ سڑک کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے۔
اس موقع پر محکمہ تعمیرات کے ایکسین اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بوائز ڈگری کالج گدیزی سلارزی 33 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ کالج رواں سال طلبہ کے داخلوں اور تدریسی سرگرمیوں کے آغاز کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جوخیلا چوک تا جوڑ چوک سڑک کی مجموعی لمبائی 15 کلومیٹر ہے، جس کی تعمیر پر تقریباً 50 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
تقریب میں بیرسٹر گوہر خان کے بھائی عظمت خان، سابق چیئرمین تحصیل گدیزی سلارزی شیر عالم خان، پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادت، پی ٹی آئی ٹائیگرز اور علاقے کے عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریبات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر ریاض خان نے کہا کہ گرلز ڈگری کالج گدیزی سلارزی کے قیام کے لیے 20 کنال اراضی کا انتخاب کر لیا گیا ہے اور اس منصوبے پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کلیل روڈ کی تعمیر اور سلارزی میں گیراڑی سمیت دیگر علاقوں کی رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے تحصیل کمپلیکس کی عمارت کا افتتاح بھی جلد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ عالمی بینک کے تعاون سے 12 ارب روپے کی خطیر رقم سے سیلاب سے بچاؤ کے لیے حفاظتی پشتے تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں عوامی سہولیات کی فراہمی اور ترقی کے لیے کئی دیگر اہم منصوبے بھی زیر غور ہیں، جبکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
وفاقی مداخلت اور سیاسی صورتحال پر صوبائی وزیر کا اظہارِ خیال
صوبائی حکومت کی بے بسی، وزراء اور اسمبلی اراکین کی گرفتاریوں اور وفاقی مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں ریاض خان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسمبلی اراکین اور حکومتوں کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی، بلکہ طاقتور حلقے اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، گورنر راج نافذ کیا جائے یا ایمرجنسی لگائی جائے، ان اقدامات پر پوچھنے والا کوئی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف تنہا سیاسی میدان میں اپنے اصولی مؤقف پر کھڑی ہے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں محض سیاسی کھیل میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق عوامی حکمرانی، ووٹ کے احترام اور مہنگائی سے ریلیف کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
ریاض خان نے خبردار کیا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اگر لوگ کسی قیادت کے بغیر سڑکوں پر نکل آئے تو انہیں قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، یکجہتی، ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر ملک کو نقصان اور پشیمانی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
بانی پی ٹی آئی تک رسائی، علاج اور فیئر ٹرائل کا مطالبہ
صوبائی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی، ان کے علاج معالجے اور منصفانہ ٹرائل (فیئر ٹرائل) کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کو ان بنیادی حقوق کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے تاکہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے تاکہ جلسے، جلوس اور دھرنے ختم ہوں، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور عوام سکون کا سانس لے سکیں۔