پاکستان

صومالیہ میں ساڑھے پانچ ماہ بحری قزاقوں کی قید میں رہنے والے سوات کے نوجوان محمد یاسین وطن واپس پہنچ گئے

اکتوبر 11, 2026 • Press Release

سوات (بیورو رپورٹ) سوات کی تحصیل کبل کے علاقے لعلو بانڈہ سے تعلق رکھنے والے کمپیوٹر سائنس کے گریجویٹ محمد یاسین کی زندگی کی کہانی بے روزگاری، روزگار کی تلاش، سمندر کے خطرناک سفر، بحری قزاقوں کی قید، موت کے خوف اور بالآخر وطن واپسی کی ایک دردناک داستان ہے۔ محمد یاسین اگست 2025 میں بے روزگاری کے باعث روزگار کی تلاش میں سمندر کے مسافر بنے اور دبئی کے ایک جہاز میں ملازمت اختیار کرلی، تاہم کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں گھر سے نکلنے والا یہ نوجوان چند ماہ بعد ایک ایسے کربناک تجربے سے گزرے گا جس میں اسے ساڑھے پانچ ماہ تک موت کے سائے تلے زندگی گزارنا پڑے گی۔ محمد یاسین کے مطابق 21 اپریل 2026 کو ان کا جہاز عمان سے صومالیہ کی جانب سفر کر رہا تھا کہ راستے میں بحری قزاقوں نے جہاز کو گھیر لیا اور عملے کے تمام 17 ارکان کو یرغمال بنا لیا۔ اس واقعے کے بعد جہاز کے عملے کے لیے ایک طویل اور اذیت ناک دور شروع ہوا، جس میں انہیں اپنی جانوں کے تحفظ کے ساتھ رہائی کی امید بھی برقرار رکھنا پڑی۔ محمد یاسین نے بتایا کہ بحری قزاقوں نے انہیں تقریباً ساڑھے پانچ ماہ تک ایک کمرے میں قید رکھا اور رہائی کے بدلے رقم کا مطالبہ کیا جاتا رہا، جبکہ وہ مسلسل خوف اور غیر یقینی صورت حال سے دوچار رہے۔ ان کے بقول، اس مشکل وقت میں ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا اور وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے خاندان اور وطن واپسی کے منتظر رہے۔ قید کے دوران صورت حال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب صومالیہ کی بحریہ نے بحری قزاقوں کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ محمد یاسین کے مطابق آپریشن کے دوران بحری قزاقوں نے فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں تین پاکستانیوں سمیت پانچ افراد جاں بحق جبکہ چار پاکستانی زخمی ہوگئے۔ اس خونریز صورت حال میں محمد یاسین سمیت تین پاکستانی معجزانہ طور پر محفوظ رہے، تاہم ساتھیوں کی موت اور زخمی ہونے کے واقعات نے اس طویل قید کو مزید خوفناک بنا دیا۔ بالآخر ساڑھے پانچ ماہ کی اذیت ناک قید کے بعد محمد یاسین وطن واپس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جہاں ان کے آبائی علاقے لالو بانڈا میں اہلِ علاقہ اور گاؤں والوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ طویل عرصے بعد اپنے لوگوں کے درمیان پہنچنے پر ان کی واپسی اہلِ خانہ اور اہلِ علاقہ کے لیے خوشی کا باعث بنی، تاہم اس سفر کے تلخ تجربات اور قید کے دوران پیش آنے والے واقعات ان کے لیے ایک ناقابلِ فراموش یاد بن گئے۔ محمد یاسین نے اس مشکل وقت میں حکومتی عدم توجہی پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ بحری قزاقوں کی قید میں تھے تو حکومت پاکستان اور خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ان کی مدد اور داد رسی کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اپنی قید کے دوران پیش آنے والے حالات، رہائی کے لیے رقم کے مطالبے، فائرنگ کے واقعے اور ساتھیوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے پانچ ماہ تک موت کے خوف میں زندگی گزارنے کے بعد وطن واپسی ان کے لیے ایک نئی زندگی ملنے کے مترادف ہے۔ کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بے روزگاری کے باعث سمندر میں ملازمت اختیار کرنے والے محمد یاسین کی داستان نہ صرف روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے والے نوجوانوں کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ایسے حالات میں شہریوں کی مدد اور تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔