پاکستان

ٹانک خیبر پختونخوا میں صرف آٹے کی ترسیل بحال کرنا کافی نہیں، پنجاب سے گندم کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے، عوامی مطالبہ

اکتوبر 19, 2026 • Press Release

ٹانک سمیت پورے خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کے لیے گندم کی ترسیل بحال کرنا ناگزیر قرار

ٹانک: خیبر پختونخوا میں پنجاب سے آٹے کی ترسیل بحال ہونے کے باوجود آٹے کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کے امکانات محدود ہیں، کیونکہ اصل مسئلہ صوبے میں گندم کی فراہمی کا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب سے سفید آٹے کی ترسیل کھولنے کے بجائے گندم کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ مقامی سطح پر آٹے کی پیداوار میں اضافہ اور قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے۔صوبے میں پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر طویل عرصے سے عائد پابندیوں اور رکاوٹوں کے باعث آٹے کی قیمتوں کا معاملہ عوام کے لیے تشویش کا باعث رہا ہے۔ حالیہ انتظامی اقدامات کے تحت آٹے کی ترسیل بحال ہونے کو ایک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم صرف تیار آٹے کی ترسیل سے عوام کو مطلوبہ ریلیف ملنا ضروری نہیں، جب تک گندم کی فراہمی کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اس اہم مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور خیبر پختونخوا، بالخصوص ضلع ٹانک سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں پنجاب سے گندم کی ترسیل فوری طور پر بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔عوام کا کہنا ہے کہ گندم کی فراہمی یقینی بنانے سے مقامی فلور ملز کو مناسب نرخوں پر خام مال میسر آئے گا، جس سے آٹے کی پیداوار بہتر ہونے اور قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کے امکانات پیدا ہوں گے۔عوام نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب اور گورنر خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے گندم کی ترسیل بحال کروائیں، تاکہ ٹانک سمیت پورے خیبرپختونخوا کے عوام کو مہنگائی سے ریلیف مل سکے اور آٹے کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں آ سکیں۔