پاکستان

آور ایم فاؤنڈیشن کی چترال میں تعلیمی ترقی، خواتین کو بااختیار بنانے اور نوجوانوں کی جدید تربیت کے لیے اہم اقدامات

اکتوبر 20, 2026 • Press Release

چترال (نذیر حسین شاہ نذیر) آور ایم فاؤنڈیشن (OAF) گزشتہ 13 سال سے اپر چترال کے علاقے کھوتان لشٹ میں واقع تریچ میر اسکول کی معاونت کر رہی ہے، جہاں بچوں کو مفت تعلیم اور کتابوں کی فراہمی کے ذریعے ان کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ فاؤنڈیشن نے حال ہی میں صرف پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں اسکول کی دوبارہ تعمیر مکمل کرنے کے ساتھ اضافی کلاس رومز بھی تعمیر کیے ہیں، جس سے ادارے کو جدید تعلیمی مرکز کی شکل دینے اور طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں مدد ملی ہے۔آور ایم فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ علاقے کی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک الگ ویمن ایمپاورمنٹ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس مرکز میں خواتین کو کڑھائی اور دیگر روایتی و فنی ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے روزگار حاصل کر سکیں اور اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں کردار ادا کریں۔اسی طرح مقامی نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اکیسویں صدی کی مہارتوں اور مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکول میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے طلبہ اور اساتذہ کو جدید ڈیجیٹل تعلیمی وسائل تک رسائی حاصل ہوگی۔ان اقدامات کا مقصد علاقے میں معیاری تعلیم کے فروغ، خواتین کی معاشی خودمختاری، نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں میں اضافے اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔ آور ایم فاؤنڈیشن کی یہ کاوشیں کھوتان لشٹ میں تعلیمی اور سماجی ترقی کے ساتھ ایک روشن اور خودکفیل مستقبل کی تعمیر کی جانب اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔ادارے کے نمائندوں نواز خان، علی العزیز اور دیگر نے کہا کہ آور ایم فاؤنڈیشن کے فلاحی پروگراموں سے اب تک مختلف ممالک میں 67 لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تنظیم پاکستان سمیت چھ سے زائد ممالک میں معیاری تعلیم کے فروغ، بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی، غربت میں کمی اور مستحق افراد کی معاونت کے لیے سرگرم عمل ہے۔ادارے کے نمائندوں نواز خان، علی العزیز اور دیگر نے کہا کہ آور ایم فاؤنڈیشن کے فلاحی پروگراموں سے اب تک مختلف ممالک میں 67 لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تنظیم پاکستان سمیت چھ سے زائد ممالک میں معیاری تعلیم کے فروغ، بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی، غربت میں کمی اور مستحق افراد کی معاونت کے لیے سرگرم عمل ہے۔