پاکستان

موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات، سوات میں پہاڑی زراعت کے مستقبل پر تین روزہ عالمی کانفرنس، 100 سے زائد ماہرین شریک

اکتوبر 13, 2026 • Press Release

سوات (بیورو رپورٹ) سوات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور پہاڑی زراعت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں اندرون ملک اور بیرون ملک سے 100 سے زائد محققین، ریسرچرز اور ماہرین شریک ہیں۔ کانفرنس کا اہتمام یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات نے کیا ہے، جس کا مرکزی موضوع تحقیق، جدت اور پہاڑی علاقوں کی برادریوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ایگریکلچر سوات کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر داود جان نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے، جبکہ گزشتہ سال منعقدہ کانفرنس کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت، اقدامات اور متعلقہ پالیسی امور پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ کانفرنس کے پہلے روز کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اقبال حسین مہمان خصوصی تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلیوں کے پاکستان پر اثرات، بالخصوص 2022 کے تباہ کن سیلاب کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب سے ملک بھر میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 700 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، تقریباً 80 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، جبکہ ملک کو تقریباً 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ سیلاب کے باعث 40 لاکھ ہیکٹر سے زائد زرعی اراضی پر فصلیں تباہ ہوئیں اور تقریباً 10 لاکھ مویشی ضائع ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیلاب کے بعد تقریباً 2 ہزار صحت کے مراکز اور 56 ہزار سے زائد اسکول متاثر ہوئے، جبکہ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق تقریباً 90 لاکھ افراد غربت کا شکار ہوئے۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے کہا کہ پاکستان میں 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو ملک کے آبی نظام اور بالخصوص پہاڑی زراعت کے لیے انتہائی اہم ہیں، تاہم بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور ماحولیاتی دباؤ زراعت، آبی وسائل اور انسانی زندگی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں 18 سے 20 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلابی پانی کو مؤثر طریقے سے ذخیرہ کرکے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اسے نقصان کے بجائے ایک قیمتی وسیلے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زمین کے تحفظ، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، پہاڑی ڈھلوانوں پر سیڑھی نما کھیت بنانے، زرعی جنگلات کے فروغ، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور آبپاشی کے جدید طریقے اپنانے پر زور دیا۔ کمشنر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے بیجوں، جدید زرعی تحقیق اور کسانوں تک سائنسی معلومات کی رسائی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے جامعات، محققین، سرکاری اداروں اور کسانوں کے درمیان مؤثر رابطے کو فروغ دینے پر بھی زور دیا تاکہ تحقیقی نتائج کو عملی طور پر کھیتوں تک پہنچایا جا سکے۔ کانفرنس کے پہلے روز پروفیسر ڈاکٹر جمال، پروفیسر ڈاکٹر فرمان، سابق چیف کنزرویٹر ثناء اللہ خان اور دیگر محققین نے مختلف موضوعات پر لیکچرز دیے اور اپنے تحقیقی تجربات و مشاہدات پیش کیے۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ تحقیق، جدت اور مقامی آبادی کے تجربات کو یکجا کرکے پہاڑی علاقوں میں زراعت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنانے، غذائی تحفظ بہتر کرنے اور مقامی آبادی کے ذرائع معاش کو مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔ کانفرنس کا مقصد ماہرین، جامعات اور مقامی برادریوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی پائیدار پہاڑی زراعت کے فروغ کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کرنا ہے۔