خیبرپختونخوا کے عوام کو ریلیف نہ ملا تو سیاسی نقشہ بدل سکتا ہے!
تحریر (لیاقت سیماب درانی)
امن، روزگار، سستا پٹرول اور گیس عوام کا حق ہے، سیاسی احسان نہیں اب نعروں کا نہیں، عملی اقدامات کا وقت ہے۔
خیبرپختونخوا کو پاکستان تحریکِ انصاف کا سیاسی گڑھ تصور کیا جاتا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ عوام کا اعتماد صرف نعروں، وعدوں اور جذباتی تقاریر سے ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ عوام ووٹ ضرور دیتے ہیں، مگر بدلے میں امن، روزگار، انصاف، عزت اور بہتر زندگی کی توقع بھی رکھتے ہیں۔
وزیراعظم کا دورۂ خیبرپختونخواہ کیلے یقیناً ایک اہم موقع ہے۔ جو 160ارب روپے وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے۔یہ عوام پہ لگنی چاہیے۔نہ کے پچھلے حکومتوں کی طرح ان کے کارندوں کی جیب گرم کرنے کیلے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دورے کو محض سیاسی سرگرمی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ صوبے کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے اور ان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
آخر کب تک خیبرپختونخوا کے عوام امن کے لیے اپنے پیاروں کی قربانیاں دیتے رہیں گے؟ آخر کب تک نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر بھٹکتے رہیں گے؟ آخر کب تک ایک غریب باپ مہنگے پٹرول، گیس، بجلی اور آٹے کے بلوں کے سامنے بے بس کھڑا رہے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب تقریروں سے نہیں، عملی اقدامات سے دینا ہوں گے۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے مختلف سیاسی جماعتوں کے مختلف نعرے سنے ہیں۔ کسی نے روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا، کسی نے انصاف کا خواب دکھایا، کسی نے خوشحال پاکستان اور ترقی یافتہ پاکستان کی امید دلائی، کسی نے ووٹ کو عزت دینے کی بات کی، تو کسی نے پختونوں کو ان کے حقوق دلانے کا عزم ظاہر کیا۔ لیکن آج بھی عام آدمی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ اس کے گھر میں دو وقت کی روٹی ہو، اس کے بچوں کو تعلیم ملے، نوجوانوں کو روزگار ملے اور وہ خوف کے بغیر اپنی زندگی گزار سکے۔
اب عوام کو مزید نعروں کی نہیں، نتائج کی ضرورت ہے۔
اگر حکومت خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم کرنے، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے، مہنگائی میں کمی لانے اور پٹرول و گیس سمیت بنیادی ضروریاتِ زندگی کو عوام کی دسترس میں لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے مثبت سیاسی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ لیکن اگر عوام کی مشکلات برقرار رہیں اور ان کے مسائل حل نہ ہوئے تو پی ٹی آئی سمیت ہر سیاسی قوت کے لیے عوامی حمایت برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
کیونکہ جب عوام کی امیدیں بار بار ٹوٹتی ہیں تو وہ متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ متبادل کوئی نئی سیاسی قیادت، کوئی نئی عوامی تحریک یا ایسا نظریہ بھی ہو سکتا ہے جو انہیں حقیقی انصاف، معاشی تحفظ اور باعزت زندگی کی امید دلائے۔ بعض حلقے اسے اسلامی انقلاب کا نام دیتے ہیں، لیکن کسی بھی تبدیلی کی اصل بنیاد عوامی شعور، آئینی جدوجہد، انصاف اور حقیقی خدمت ہونی چاہیے۔
یہ وقت کسی سیاسی جماعت کو گرانے یا کسی جماعت کو مسلط کرنے کا نہیں، بلکہ خیبرپختونخوا کے عوام کو بچانے کا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت سمیت تمام فیصلہ سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خیبرپختونخوا کے عوام صرف ووٹ بینک نہیں، اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ ان کی جان، ان کا روزگار، ان کا مستقبل اور ان کی عزت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ملک کے کسی دوسرے حصے کے شہریوں کی۔
اگر کسی علاقے کے عوام مسلسل بدامنی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہوں تو ان سے محض صبر کی توقع رکھنا کافی نہیں؛ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لیے عملی آسانیاں پیدا کرے۔
خدارا! خیبرپختونخوا کو سیاسی کشمکش کا میدان بنانے کے بجائے عوامی ریلیف کا مرکز بنائیں۔ امن کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنائیں، روزگار کے مواقع پیدا کریں، مہنگائی کے بوجھ کو کم کریں، نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں اور عوام کو یہ احساس دلائیں کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
یاد رکھیے! عوام جب ووٹ دیتے ہیں تو امید کے ساتھ دیتے ہیں، لیکن جب ان کی امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں تو سیاسی وفاداریاں بھی بدل سکتی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں آج بھی بہت کچھ سنبھالا جا سکتا ہے، بشرطیکہ فیصلہ ساز وقت کی نزاکت کو سمجھیں اور عوامی مشکلات کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
ابھی وقت ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے، ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے اور ان کا اعتماد بحال کیا جائے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کے مسائل مسلسل نظرانداز ہوں تو تبدیلی کی آواز کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔