تیمرگرہ: سردیوں میں جلدی امراض میں اضافہ، احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں، ڈاکٹر علی محمد داؤد خان
تیمرگرہ (اسماعیل انجم سے) تیمرگرہ کے معروف ماہرِ امراضِ جلد (سکن اسپیشلسٹ) ڈاکٹر علی محمد داؤد خان نے کہا ہے کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی خشکی اور دیگر موسمی تغیرات کے باعث جلدی امراض میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم بروقت احتیاطی تدابیر اپنا کر ان سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
مقامی میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سردیوں میں پیدا ہونے والی جلد کی مختلف بیماریوں، ان کی بنیادی وجوہات اور ممکنہ خطرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر علی محمد داؤد خان کا کہنا تھا کہ سرد اور خشک ہوائیں جلد کی قدرتی نمی چھین لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں خارش، ایگزیما، الرجی اور خشکی جیسے مسائل شدت اختیار کر جاتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں کو تجویز دی کہ موسم سرما میں جلد کو نرم اور مرطوب رکھنے کے لیے معیاری موئسچرائزر، لوشن یا تیل کا باقاعدہ استعمال کریں اور نہانے کے لیے بہت زیادہ گرم پانی سے گریز کریں کیونکہ یہ جلد کو مزید خشک کر دیتا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے اور جلد کو تروتازہ رکھنے کے لیے انہوں نے خاص طور پر مشورہ دیا کہ ہر وضو اور کھانے کے ساتھ پانی پینے کا معمول بنائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اونی بنیان براہِ راست جسم پر (قمیص کے نیچے) پہننے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے جلد پر رگڑ، الرجی اور شدید خارش کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر علی محمد داؤد خان نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی جلدی مرض کی صورت میں گھریلو ٹوٹکوں کے بجائے فوری طور پر مستند سکن اسپیشلسٹ سے رجوع کیا جائے تاکہ بیماری کو پیچیدہ ہونے سے روکا جا سکے۔