موسمِ سرما میں فالج کے خطرات بڑھنے کا خدشہ، بلڈ پریشر اور شوگر کے مریض خصوصی احتیاط کریں، ڈاکٹر ارشد اقبال
سردی میں شریانوں کے سکڑنے، بلڈ پریشر میں اضافے اور جسم میں پانی کی کمی سے فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، علامات ظاہر ہوتے ہی مریض کو فوری ہسپتال منتقل کیا جائے، کنسلٹنٹ نیورو سرجن ٹیچنگ ہسپتال تیمرگرہ کی میڈیا سے گفتگو
تیمرگرہ (اسماعیل انجم سے) موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی فالج کے خطرات کے پیشِ نظر طبی ماہرین نے شہریوں، بالخصوص بلند فشارِ خون، ذیابیطس، امراضِ قلب میں مبتلا مریضوں اور عمر رسیدہ افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کے مطابق سرد موسم میں شریانوں کے سکڑنے، بلڈ پریشر میں اضافے، جسم میں پانی کی کمی اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی جیسے عوامل فالج کے خطرات بڑھا سکتے ہیں، اس لیے بروقت احتیاط اور طبی نگرانی ناگزیر ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر و ٹیچنگ ہسپتال تیمرگرہ لوئر دیر کے اسسٹنٹ پروفیسر اور کنسلٹنٹ نیورو سرجن ڈاکٹر ارشد اقبال نے میڈیا سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمِ سرما میں فالج سے بچاؤ کے لیے عوام میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بالخصوص بلڈ پریشر اور شوگر کے مریضوں کو اپنی صحت کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت نہیں برتنی چاہیے اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنی چاہئیں۔
ڈاکٹر ارشد اقبال کے مطابق شدید سردی میں جسم کی خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔ بلند فشارِ خون دماغ کی شریان بند ہونے یا پھٹنے کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جو فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح سردیوں میں پیاس کم محسوس ہونے کے باعث پانی کا استعمال گھٹ جاتا ہے، جبکہ جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور مرغن، تلی ہوئی اور نمکین غذاؤں کا زیادہ استعمال بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلند فشارِ خون، ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول اور امراضِ قلب کے مریضوں کے علاوہ تمباکو نوشی کرنے والے، موٹاپے کا شکار افراد اور ماضی میں فالج کا حملہ برداشت کرنے والے مریض بھی خصوصی احتیاط کریں۔ عمر رسیدہ افراد کو بھی سردی کے اثرات سے محفوظ رہنے اور اپنی صحت کی باقاعدہ نگرانی پر توجہ دینی چاہیے۔
کنسلٹنٹ نیورو سرجن نے احتیاطی تدابیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ شہری سردی سے بچنے کے لیے گرم لباس پہنیں اور خصوصاً سر، گردن اور سینے کو مناسب طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔ بلڈ پریشر اور شوگر کو قابو میں رکھنے کے لیے باقاعدگی سے معائنہ کروائیں، ادویات میں ناغہ نہ کریں، دن بھر مناسب مقدار میں پانی پئیں اور خوراک میں نمک اور چکنائی کم کرکے تازہ پھلوں اور سبزیوں کو ترجیح دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرد موسم میں بھی اپنی جسمانی سرگرمیاں جاری رکھنا ضروری ہے، تاہم ورزش موسم اور جسمانی حالت کے مطابق کی جائے۔
ڈاکٹر ارشد اقبال نے فالج کی ابتدائی علامات سے آگاہی کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کا چہرہ اچانک ٹیڑھا ہو جائے، بازو یا ٹانگ میں کمزوری یا سن ہونے کی کیفیت پیدا ہو یا بولنے اور بات سمجھنے میں دشواری پیش آئے تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر ہنگامی طبی امداد حاصل کرتے ہوئے مریض کو ہسپتال منتقل کیا جائے، کیونکہ فالج کے علاج میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے اور تاخیر مستقل معذوری یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ فالج کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں گھریلو ٹوٹکوں یا خود علاج پر وقت ضائع کرنے کے بجائے فوری طبی مدد حاصل کریں، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج مریض کی جان بچانے اور ممکنہ معذوری کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔