پاکستان

لوئر دیر میں آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے، 40 کلو آٹا 7 ہزار روپے تک پہنچ گیا، مزدور کے گھر کا چولہا کیسے جلے؟

اکتوبر 9, 2026 • Press Release

تحریر؛ عمران خان شاہیخیل

لوئر دیر، خصوصاً جندول سب ڈویژن کے مختلف علاقوں میں آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 40 کلو آٹے کی قیمت 7 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جس نے پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدنی کے بوجھ تلے دبے مزدور طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ گھر میں بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے دن بھر محنت کرنے والا مزدور اب اس پریشانی میں مبتلا ہے کہ اپنی معمولی آمدنی سے آٹا خریدے، بجلی کا بل ادا کرے، بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھائے یا بیمار گھر والوں کے لیے دوا خریدے۔
آٹا کوئی آسائش نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں لاکھوں خاندانوں کے دسترخوان پر روٹی ہی بنیادی غذا ہے، وہاں آٹے کی قیمت میں اس قدر اضافے کو محض ایک تجارتی معاملہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ براہ راست غریب کے چولہے، بچوں کی خوراک اور خاندانوں کے روزمرہ گزارے کا مسئلہ ہے۔ جب 40 کلو آٹے کی قیمت 7 ہزار روپے تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ محدود آمدنی والے خاندانوں کے لیے روزمرہ خوراک کا بجٹ مزید سکڑ گیا ہے۔
جندول اور لوئر دیر کے دیہی علاقوں میں مزدور، دیہاڑی دار، چھوٹے دکاندار، رکشہ ڈرائیور اور محدود آمدنی رکھنے والے ملازمین پہلے ہی بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں۔ دیہاڑی ملنے کی کوئی ضمانت نہیں، روزگار کی آمدنی مستقل نہیں، لیکن گھر کے اخراجات ہر روز سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں آٹے کی قیمت بڑھنے کا اثر صرف روٹی تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندانوں کو دیگر ضروریات میں کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔ بعض گھرانوں کے لیے بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
اس صورت حال میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ خوراک اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر صورت حال کا جائزہ لیں۔ بازاروں میں آٹے کے نرخوں کی جانچ کی جائے، سرکاری نرخ نامے کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں۔ اگر گندم کی خریداری، ترسیل، ذخیرہ اندوزی، ملوں کی فراہمی یا دیگر تجارتی عوامل اس اضافے کا سبب ہیں تو ان کی حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے۔ جہاں ناجائز منافع خوری یا ذخیرہ اندوزی ثابت ہو، وہاں قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ محض نرخ نامے جاری کرنا کافی نہیں؛ ان پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
صوبائی حکومت اور محکمہ خوراک کو بھی چاہیے کہ جندول سمیت لوئر دیر میں آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کریں۔ اگر سرکاری یا رعایتی آٹا دستیاب ہے تو اس کی مقدار، تقسیم کے مقامات اور طریقۂ کار کی تشہیر کی جائے تاکہ مستحق خاندانوں کو حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔ اگر سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت میں فرق ہے تو اس کی وجوہات کی وضاحت کی جائے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ آٹے کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں اور انہیں ریلیف دینے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ انتظامیہ صرف بڑے بازاروں تک محدود نہ رہے بلکہ دور دراز علاقوں اور چھوٹے قصبوں میں بھی قیمتوں کی نگرانی کرے۔ اکثر غریب صارفین کو نہ نرخ نامے کی معلومات ہوتی ہیں اور نہ ہی شکایت کے مؤثر نظام تک رسائی۔ اس لیے متعلقہ حکام شکایات کے لیے واضح رابطہ فراہم کریں اور کارروائی کے نتائج بھی عوام کے سامنے رکھیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایک مزدور دن بھر محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کے لیے آٹا خریدنے میں دشواری محسوس کرے تو اس کے لیے معاشی آسودگی کے دعووں کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ حکومت کی کارکردگی کا اصل امتحان بڑے اعلانات نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں آنے والی آسانی ہے۔ روٹی کی قیمت عام گھرانے کی قوتِ خرید سے باہر ہونے لگے تو یہ محض بازار کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ عوامی فلاح اور انتظامی نگرانی کا اہم معاملہ بن جاتا ہے۔
جندول اور لوئر دیر کے عوام کو بیانات نہیں، عملی اقدامات درکار ہیں۔ متعلقہ حکام فوری طور پر آٹے کی قیمتوں، دستیابی اور ممکنہ ناجائز منافع خوری کی تحقیقات کرکے صورت حال واضح کریں اور غریب خاندانوں کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ کیونکہ بھوک کسی سیاسی وعدے، سرکاری وضاحت یا آئندہ اجلاس کی منتظر نہیں رہتی؛ اسے آج کی روٹی چاہیے، اور یہ روٹی عام آدمی کی پہنچ میں رہنی چاہیے۔