سرکاری خدمات میں تاخیر پر افسران کیخلاف کارروائی ہوگی، 2 سال میں تمام نظام ڈیجیٹائز ہوگا: ضیاء الرحمن
تیمرگرہ (اسماعیل انجم سے) ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر ضیاء الرحمن نے کہا ہے کہ رائٹ ٹو پبلک سروسز (آر ٹی ایس) کمیشن کا بنیادی مقصد عوام کو سرکاری محکموں سے بروقت، معیاری اور شفاف انداز میں خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ فروری 2026 میں آر ٹی ایس قانون میں ہونے والی حالیہ ترمیم کے تحت تمام صوبائی محکمے اپنی فراہم کردہ خدمات کو ایک سال کے اندر نوٹیفائی اور دو سال کے اندر مکمل ڈیجیٹائز کرنے کے پابند ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ضیاء الرحمن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2014 میں صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے قانون کے تحت قائم ہونے والا آر ٹی ایس کمیشن ایک بااختیار اور خودمختار ادارہ ہے۔
انہوں نے شکایات کے ازالے کا طریقہ کار وضع کرتے ہوئے کہا کہ بروقت سروس نہ ملنے کی صورت میں شہری متعلقہ محکمے کے انتظامی سیکرٹری (ایپلٹ اتھارٹی) کو شکایت جمع کرا سکتے ہیں۔ آر ٹی ایس قانون کے تحت ان انتظامی سیکرٹریز کو سول کورٹ کے اختیارات حاصل ہیں اور وہ درج کی گئی شکایت پر 30 دن کے اندر ضروری کارروائی اور سماعت مکمل کر کے فیصلہ دینے کے پابند ہیں۔
ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے مزید بتایا کہ اگر ایپلٹ اتھارٹی مقررہ وقت میں کارروائی نہیں کرتی یا سائل کیے گئے فیصلے سے عدم اطمینان کا شکار ہے، تو وہ براہِ راست آر ٹی ایس کمیشن میں اپیل کر سکتا ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود سرخ رنگ کے ‘آن لائن کمپلینٹ’ (Online Complaint) ٹیب یا سمارٹ فون پر ‘آر ٹی ایس کمپلینٹ مینجمنٹ ایپ’ (RTS Complaint Management App) کے ذریعے بھی باآسانی شکایات اور اپیلیں درج کی جا سکتی ہیں۔