تحصیل ثمرباغ میں تجاوزات آپریشن پر سوشل میڈیا پر بحث تیز، مختلف بازاروں کے لیے مقررہ فٹ پر عوامی اعتراضات
جندول (بیور چیف ) تحصیل ثمرباغ میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر لائک اور ڈس لائک کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے اور بازاروں کے لیے الگ الگ پیمانے مقرر کرنے کے حوالے سے بھی بحث چھڑ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے پریشر گروپ کا کردار ادا کرتے ہوئے انتظامیہ پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے حوالے سے بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ اس دوران حکومت اور انتظامیہ کے تجاوزات آپریشن پر باقاعدہ اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے مطابق منڈا بازار کو 50 فٹ، معیار بازار کو 40 فٹ، کامبٹ بازار کو 40 فٹ جبکہ تحصیل ثمرباغ کے مرکزی اور اہم بازار کو صرف 45 فٹ تک کھولنے کے نشانات لگائے گئے ہیں، جس پر شہریوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تجاوزات کے خلاف کارروائی کا مقصد بازاروں کو کشادہ کرنا اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانا ہے تو تمام بازاروں کے لیے یکساں اور واضح پالیسی ہونی چاہیے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مختلف بازاروں کے لیے مقرر کردہ پیمانوں کی وجوہات عوام کے سامنے رکھی جائیں تاکہ کسی قسم کے امتیازی سلوک یا جانبداری کا تاثر پیدا نہ ہو۔
دوسری جانب تجاوزات کے خلاف کارروائی اور بازاروں کی کشادگی کے معاملے پر عوامی آرا تقسیم دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر حکومت اور انتظامیہ کے فیصلوں پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔