حکومت کا تیلدار تین بڑی فصلوں کی پیداوار کا ہدف 8.2 فیصد بڑھانے کا منصوبہ
اسلام آباد۔06 نومبر (اے بی سی):حکومت نے سال 2026-27 کے لئے تیلدار تین بڑی فصلوں کی مجموعی پیداوار کا ہدف 8.2 فیصد بڑھانے کی تجویز دی ہے جس کے تحت کینولا، سورج مکھی اور رائی و سرسوں کی پیداوار 883,732 ٹن تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ فصل کے سال میں ان کی مجموعی پیداوار 817,100 ٹن رہی تھی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ان تینوں فصلوں کا مجموعی زیر کاشت رقبہ 682,140 ہیکٹر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ 2025-26 کے دوران 630,854 ہیکٹر رقبے پر ان کی کاشت کی گئی تھی۔ اس طرح زیر کاشت رقبے میں 51,286 ہیکٹر یا 8.1 فیصد اضافے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جبکہ مجموعی پیداوار 66,632 ٹن یا 8.2 فیصد بڑھا کر 2026-27 میں 883,732 ٹن تک پہنچانے کا ہدف ہے۔
سال 2025-26 کے پیداواری اہداف کے مقابلے میں رائی اور سرسوں کی فصلوں کی کارکردگی سب سے بہتر رہی۔ ان کی مجموعی پیداوار 603,404 ٹن تک پہنچ گئی، جو 541,890 ٹن کے مقررہ ہدف سے 11.4 فیصد زیادہ تھی۔ ان فصلوں کا زیر کاشت رقبہ بھی مقررہ ہدف سے 21.7 فیصد زیادہ رہا اور 402,810 ہیکٹر کے ہدف کے مقابلے میں 490,219 ہیکٹر تک پہنچ گیا۔ اس کارکردگی کی بنیاد پر 2026-27 کے لئے رائی اور سرسوں کی پیداوار کا مجوزہ ہدف 647,866 ٹن مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کی حاصل کردہ پیداوار سے 7.4 فیصد زیادہ ہے۔ ان فصلوں کا مجوزہ زیر کاشت رقبہ 526,505 ہیکٹر ہے جو 2025-26 کے ریکارڈ شدہ رقبے سے بھی 7.4 فیصد زیادہ ہے۔رائی اور سرسوں کی پیداوار میں پنجاب کا حصہ سب سے زیادہ رہا جہاں 2025-26 کے دوران 407,000 ٹن کے ہدف کے مقابلے میں 460,530 ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔ صوبے کے لئے 2026-27 میں پیداوار کا مجوزہ ہدف 506,000 ٹن مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 360,000 ہیکٹر رقبے پر کاشت کی تجویز ہے۔سندھ اور بلوچستان نے بھی 2025-26 کے دوران رائی اور سرسوں کی پیداوار کے اہداف سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ سندھ میں 68,630 ٹن کے ہدف کے مقابلے میں 70,154 ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی جبکہ بلوچستان میں 60,890 ٹن کے ہدف کے مقابلے میں 67,680 ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔
مجوزہ اہداف سے کینولا کی پیداوار بڑھانے کی منصوبہ بندی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ سال 2026-27 کے لئے کینولا کی قومی پیداوار کا ہدف 140,810 ٹن مقرر کیا گیا ہے جبکہ 2025-26 میں 128,026 ٹن پیداوار حاصل ہوئی تھی۔ اس طرح پیداوار میں تقریباً 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ کینولا کا زیر کاشت رقبہ 84,704 ہیکٹر سے 10.1 فیصد بڑھا کر 93,235 ہیکٹر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پنجاب کینولا پیدا کرنے والا سب سے بڑا صوبہ رہا جس نے 2025-26 کے دوران 121,270 ٹن پیداوار حاصل کی جو قومی پیداوار کا تقریباً 94.7 فیصد تھی۔ صوبے کے لئے 2026-27 میں کینولا کی پیداوار کا مجوزہ ہدف 133,000 ٹن مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس کی کاشت کے لیے 85,000 ہیکٹر رقبہ مختص کرنے کی تجویز ہے۔سورج مکھی کی پیداوار بھی 2026-27 میں تقریباً 11 فیصد بڑھا کر 95,056 ٹن تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ فصل کے سال میں اس کی پیداوار 85,670 ٹن رہی تھی۔ سورج مکھی کا مجوزہ زیر کاشت رقبہ 55,931 ہیکٹر سے 11.6 فیصد بڑھا کر 62,400 ہیکٹر کر دیا گیا ہے۔
پنجاب اور سندھ میں 2025-26 کے دوران سورج مکھی کی سب سے زیادہ پیداوار ریکارڈ کی گئی جو بالترتیب 38,880 ٹن اور 34,642 ٹن رہی۔ ان دونوں صوبوں کے لئے 2026-27 میں سورج مکھی کی پیداوار کے مجوزہ اہداف بالترتیب 43,000 ٹن اور 39,570 ٹن مقرر کئے گئے ہیں تاہم اعدادوشمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 2025-26 کے دوران کینولا اور سورج مکھی کی پیداوار اپنے ابتدائی اہداف سے کم رہی۔ کینولا کی پیداوار 217,251 ٹن کے ہدف کے مقابلے میں 128,026 ٹن رہی، جبکہ سورج مکھی کی پیداوار 127,740 ٹن کے ہدف کے مقابلے میں 85,670 ٹن تک پہنچ سکی۔سال 2026-27 کے مجوزہ اہداف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل دار فصلوں کی تینوں اقسام کے زیر کاشت رقبے اور پیداوار میں اضافے کی منصوبہ بندی کی گئی ہےجبکہ مجموعی پیداواری ہدف میں رائی اور سرسوں کا حصہ بدستور سب سے زیادہ رہے گا۔