پاکستان

باجوڑ میں بدامنی کی لہر، 13 سال میں ٹارگٹ کلنگ سے 670 افراد جاں بحق

نومبر 4, 2026 • Press Release

 

سال 2026 میں ٹارگٹ کلنگ، آئی ای ڈی، خودکش حملوں اور دیگر پرتشدد واقعات سمیت 108 واقعات رپورٹ، 68 افراد جاں بحق جبکہ 104 زخمی؛ ڈاکٹرز، وکلاء، صحافی اور تاجر بھی مبینہ دھمکیوں کی زد میں

باجوڑ: ضلع باجوڑ میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے مختلف واقعات میں اضافے نے امن و امان کی صورتحال کو ایک بار پھر تشویشناک بنا دیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2013 سے 2026 تک ضلع بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں مجموعی طور پر 670 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ صرف رواں سال 2026 کے دوران اب تک ٹارگٹ کلنگ اور دیگر مختلف کے واقعات میں 68 افراد جانبحق ہوگئے

ضلع باجوڑ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے دوران ضلع بھر میں ٹارگٹ کلنگ، دیسی ساختہ بم (IED)، خودکش حملوں، شہریوں ، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں (LEAs) پر حملوں سمیت مجموعی طور پر 108 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سرکاری ملازمین اور عام شہریوں سمیت 68 افراد جاں بحق جبکہ 104 افراد زخمی ہوئے۔

ذرائع کے مطابق رواں سال اکتوبر کے مہینے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جس سے ضلع میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔

صورتحال کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں کی جانب سے ڈاکٹرز، وکلاء، صحافیوں اور تاجر برادری سے وابستہ افراد کو بھی قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان دھمکیوں کے باعث مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلسل پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے نہ صرف عام شہریوں کی زندگی متاثر کی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، پیشہ ورانہ خدمات اور سماجی ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ شہریوں کے مطابق امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

علاقے کے عوام نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، ان واقعات میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بالخصوص دھمکیوں کا سامنا کرنے والے ڈاکٹرز، وکلاء، صحافیوں اور تاجروں کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

باجوڑ میں 13 سال کے دوران ٹارگٹ کلنگ سے 670 افراد کی ہلاکت اور صرف 2026 میں مختلف نوعیت کے 108 پرتشدد واقعات میں 68 افراد کی ہلاکت اور 104 کے زخمی ہونے کے اعداد و شمار کئی اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے گا؟ پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والے افراد کو تحفظ کب ملے گا اور ضلع میں پائیدار امن کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کب اٹھائے جائیں گے؟