صحافت جرم نہیں، مگر سچ لکھنے کی قیمت آج بھی جان سے ادا کرنا پڑتی ہے!
عالمی دنِ انسدادِ استثنیٰ جرائم برائے صحافی کے تناظر میں پاکستان، خیبرپختونخوا اور ملاکنڈ ڈویژن کی صورت حال
تحریر؛ عمران خان شاہیخیل
صحافت کسی حکومت، سیاسی جماعت، طاقتور ادارے یا فرد کی ترجمان نہیں ہوتی۔ اس کا اصل کام معاشرے کو حقیقت سے آگاہ کرنا، اقتدار سے سوال کرنا، عوامی مسائل کو سامنے لانا اور ان آوازوں کو جگہ دینا ہے جو وسائل اور اختیار نہ ہونے کے باعث اپنے حقوق کے لیے خود نہیں بول سکتیں۔ ایک صحافی جب کسی سرکاری ہسپتال میں علاج کی سہولتوں کی عدم دستیابی، کسی سکول میں اساتذہ کی غیرحاضری، ترقیاتی منصوبے میں بدعنوانی، انتظامیہ کی غفلت یا کسی بااثر شخصیت کے غیرقانونی اقدام کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ دراصل معاشرے کے اجتماعی مفاد کا تحفظ کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، لیکن افسوس کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں آج بھی سچ لکھنا، سوال اٹھانا اور حقائق سامنے لانا ایک خطرناک پیشہ بن چکا ہے۔
ہر سال 2 نومبر کو دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف
جرائم میں استثنیٰ کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2013ء میں قرارداد A/RES/68/163 کے ذریعے اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کیا تھا۔ اس تاریخ کا انتخاب مالی میں 2 نومبر 2013ء کو قتل کیے جانے والے دو فرانسیسی صحافیوں کی یاد میں کیا گیا۔ اس دن کا بنیادی مقصد صحافیوں کے قتل، اغوا، تشدد، دھمکیوں اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا اور ایسے واقعات کی تحقیقات کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی صحافی کو محض اس کے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی پر زندگی سے محروم نہ ہونا پڑے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی 2 نومبر 2026ء کو جاری ہونے والی تازہ رپورٹ دنیا میں صحافیوں کی صورت حال کی ایک تشویش ناک تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2006ء سے 2025ء کے اختتام تک دنیا بھر میں 1600 سے زیادہ صحافی قتل کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان میں سے 86 فیصد مقدمات تاحال عدالتی طور پر حل نہیں ہو سکے۔ صرف 2024ء اور 2025ء کے دوران 189 صحافی تشدد کے واقعات میں جان سے گئے، جن میں 127 صحافی تنازعات اور جنگی علاقوں میں قتل ہوئے۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان دو برسوں میں تنازعات کے دوران قتل ہونے والے صحافیوں میں سے 50 ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔ یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں نے جنگی رپورٹنگ کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے، لیکن مجرموں کو سزا نہ ملنے کا بنیادی مسئلہ بدستور موجود ہے۔ یونیسکو کے مطابق دنیا میں صحافیوں کے قتل کے تقریباً دس میں سے نو مقدمات میں انصاف نہیں مل سکا۔
پاکستان میں صحافت کی تاریخ قربانیوں، سنسرشپ، پابندیوں، دھمکیوں اور مزاحمت سے عبارت ہے۔ یہاں صحافیوں کو صرف دہشت گرد تنظیموں اور مسلح گروہوں سے خطرات لاحق نہیں بلکہ سیاسی دباؤ، قانونی کارروائیوں، گرفتاریوں، اغوا، معاشی استحصال اور بعض اوقات طاقتور حلقوں کی ناراضی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحافت کے لیے خطرات کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ پہلے کسی خبر کے نتیجے میں جسمانی حملے یا قتل کا خدشہ زیادہ نمایاں تھا، اب مقدمات، سائبر قوانین، سوشل میڈیا پر منظم مہمات اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانے کے طریقے بھی دباؤ کے ذرائع بنتے جا رہے ہیں۔
فریڈم نیٹ ورک کی 29 اکتوبر 2026ء کو جاری کردہ امپیونٹی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025ء سے اگست 2026ء تک پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف 97 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں ایک صحافی کا پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران قتل، تین قاتلانہ حملے، قتل یا نقصان پہنچانے کی 18 دھمکیاں، جسمانی تشدد کے 11 واقعات، 13 قانونی کارروائیاں اور 32 قانونی کارروائیوں کی دھمکیاں شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا ان واقعات کے حوالے سے پنجاب کے بعد دوسرے نمبر پر رہا۔ اس رپورٹ کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ صحافیوں کے خلاف استثنیٰ کا مسئلہ اب صرف قاتلوں کو سزا نہ ملنے تک محدود نہیں رہا بلکہ قانونی عمل کو بھی بعض حالات میں دباؤ کے ایک طریقے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس صورت حال میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) میں 2025ء کی ترامیم بھی صحافتی حلقوں میں تشویش کا باعث بنیں۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مبہم قانونی دفعات کو اختلافی آوازوں اور تنقیدی رپورٹنگ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی تازہ رپورٹ میں بھی قانونی کارروائیوں اور ان کی دھمکیوں کو صحافیوں پر دباؤ کے اہم ذرائع قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی قانون سے بالاتر ہیں یا انہیں غلط معلومات پھیلانے اور کسی کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچانے کا حق حاصل ہے، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہوتا ہے اور کیا تنقیدی صحافت کو خاموش کرانے کے لیے قانونی کارروائیوں کا سہارا تو نہیں لیا جا رہا؟
خیبرپختونخوا میں صحافت کی مشکلات پاکستان کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ دہشت گردی، مسلح گروہوں کی سرگرمیاں، سرحدی کشیدگی، سیاسی عدم استحکام اور مقامی سطح پر طاقتور عناصر کا اثر و رسوخ صحافیوں کے لیے خطرات بڑھاتا ہے۔ یہاں خبر کی تلاش میں نکلنے والا صحافی بعض اوقات ایسے علاقوں میں پہنچتا ہے جہاں عام شہری بھی جانے سے گریز کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی، مقامی تنازعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کے دوران اسے اپنی جان، خاندان اور پیشہ ورانہ مستقبل کی فکر بھی لاحق رہتی ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کی 2025ء کی پاکستان فریڈم آف ایکسپریشن اینڈ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کے زیرِ جائزہ عرصے میں خیبرپختونخوا میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف 22 واقعات رپورٹ ہوئے، جو اس رپورٹ میں شامل صوبوں میں سب سے زیادہ تھے۔ اسی رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ملک بھر میں پانچ صحافی قتل ہوئے، جن میں دو کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا۔ شمالی وزیرستان میں 21 مئی 2024ء کو صحافی کامران داوڑ اور ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں 18 جون 2024ء کو صحافی خلیل جبران کا قتل اس حقیقت کی دردناک مثالیں ہیں کہ اس صوبے میں صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ بعض اوقات جان جوکھوں میں ڈالنے والی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
کامران داوڑ شمالی وزیرستان میں بدامنی اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹنگ کرتے تھے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی تحقیق کے مطابق انہیں قتل سے چند روز پہلے دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں۔ اسی طرح خلیل جبران خیبر نیوز سے وابستہ تھے اور لنڈی کوتل پریس کلب کے سابق صدر بھی رہ چکے تھے۔ ان کا قتل علاقے کی صحافتی برادری کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔ ایسے واقعات کے بعد صرف تعزیتی بیانات اور مذمتی قراردادیں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ ضروری ہے کہ تحقیقات مکمل ہوں، اصل ملزمان گرفتار کیے جائیں، مقدمات منطقی انجام تک پہنچیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملے۔
ملاکنڈ ڈویژن کے حالات اس حوالے سے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ سوات، دیر بالا، دیر پائین، چترال، بونیر، شانگلہ، ملاکنڈ اور باجوڑ جیسے اضلاع میں مقامی صحافت عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہاں کا صحافی صرف قومی سیاست یا بڑے واقعات کی رپورٹنگ نہیں کرتا بلکہ دور دراز دیہات کے مسائل، سکولوں کی بندش، ہسپتالوں میں سہولتوں کی کمی، سڑکوں کی خستہ حالی، بجلی اور پانی کے مسائل، ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں اور امن و امان کی صورت حال کو بھی سامنے لاتا ہے۔ بہت سے معاملات میں یہی مقامی صحافی ہوتے ہیں جو کسی چھوٹے گاؤں کی ایسی مشکل کو اجاگر کرتے ہیں جس پر بڑے میڈیا اداروں کی توجہ نہیں پہنچ پاتی۔
ملاکنڈ ڈویژن کے مقامی صحافیوں کا ایک بڑا مسئلہ ان کے پیشہ ورانہ اور معاشی حالات بھی ہیں۔ بڑے شہروں کے میڈیا اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں کے مقابلے میں دور دراز علاقوں کے نمائندوں کو عموماً کم وسائل، محدود معاوضے اور غیر یقینی ملازمت کا سامنا ہوتا ہے۔ بعض صحافیوں کو کئی ماہ تک ادائیگیاں نہیں ملتیں، بعض اپنے ذاتی وسائل سے سفر اور رپورٹنگ کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، جبکہ ان کے پاس علاج، قانونی معاونت اور حفاظتی سہولتوں کا بھی مناسب انتظام نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے آزادانہ صحافت جاری رکھیں گے، ایک مشکل سوال ہے۔
اس خطے میں ایک اور مسئلہ مقامی طاقت کے مراکز کا ہے۔ کسی بااثر شخص، سیاسی رہنما، سرکاری افسر یا مقامی ادارے کے خلاف خبر شائع کرنا بعض اوقات صحافی کے لیے ذاتی دشمنی، دھمکی یا معاشرتی دباؤ کا سبب بن جاتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں صحافی اور خبر سے متعلق افراد ایک ہی معاشرتی ماحول میں رہتے ہیں، اس لیے ان کے لیے پیشہ ورانہ ذمہ داری اور ذاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے مقامی صحافی محدود وسائل کے ساتھ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع کے حوالے سے صحافیوں پر حملوں، دھمکیوں، مقدمات، اغوا اور معاشی استحصال کا کوئی ایسا جامع اور مسلسل ضلع وار ڈیٹا دستیاب نہیں جس کی بنیاد پر ہر علاقے کی صورت حال کا درست تقابل کیا جا سکے۔ یہ کمی بھی توجہ طلب ہے، کیونکہ جس مسئلے کا باقاعدہ ریکارڈ موجود نہ ہو، اس کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی بنانا مشکل ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت، صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کو چاہیے کہ ملاکنڈ ڈویژن سمیت پورے صوبے میں صحافیوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کا قابلِ تصدیق ریکارڈ مرتب کریں تاکہ خطرات کی نوعیت اور ان کے پھیلاؤ کو سمجھا جا سکے۔
تاہم صحافت کے بحران کی تمام ذمہ داری ریاست یا بیرونی دباؤ پر ڈال دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ صحافتی اداروں اور خود صحافیوں کو اپنے پیشے کے اندر موجود خرابیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ سیاسی وابستگی، غیرمصدقہ خبروں، سنسنی خیزی، ذاتی مفادات، کردار کشی اور افواہوں کو خبر کے طور پر پیش کرنے کے رجحان نے صحافت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ آزادیٔ صحافت کا مطلب غیرذمہ داری کی آزادی نہیں۔ ایک صحافی پر لازم ہے کہ وہ خبر کی تصدیق کرے، متعلقہ فریق کا مؤقف حاصل کرے، الزام اور ثبوت میں فرق رکھے اور ذاتی پسند و ناپسند کو پیشہ ورانہ ذمہ داری پر غالب نہ آنے دے۔ لیکن اس اصول کو کسی حکومت یا طاقتور ادارے کے لیے تنقید سے بچنے کا جواز بھی نہیں بنایا جا سکتا۔
پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی بھی ہو چکی ہے، مگر قانون کی اصل اہمیت اس کے مؤثر نفاذ سے ہوتی ہے۔ اگر صحافیوں کے تحفظ کے لیے کمیشن اور ادارے قائم ہوں لیکن ان کے پاس وسائل، اختیارات اور عملی صلاحیت نہ ہو تو ان کا وجود کاغذی کارروائی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ فریڈم نیٹ ورک کی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2000ء سے اب تک پاکستان میں پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران 170 سے زیادہ صحافی قتل ہو چکے ہیں، لیکن ان کے قاتلوں میں سے صرف تین کو سزا ملنے کا ریکارڈ موجود ہے۔ یہ اعدادوشمار کسی بھی ریاست کے لیے سنجیدہ سوال ہیں کہ آخر صحافیوں کے قتل کے مقدمات میں انصاف کا یہ فقدان کیوں برقرار ہے؟
خیبرپختونخوا حکومت کو چاہیے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر، بااختیار اور خودمختار نظام قائم کرے جس میں صحافتی تنظیموں، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی حقیقی شمولیت ہو۔ صحافیوں کو دھمکی ملنے یا حملے کا نشانہ بننے کی صورت میں فوری قانونی اور حفاظتی معاونت فراہم کی جائے۔ ملاکنڈ ڈویژن کے پریس کلبوں کو محض تقریبات اور انتخابات تک محدود رکھنے کے بجائے صحافیوں کی تربیت، قانونی رہنمائی، ڈیجیٹل سکیورٹی اور ہنگامی معاونت کے مراکز بنایا جائے۔ میڈیا مالکان بھی اپنی ذمہ داری پوری کریں اور اپنے نمائندوں کو بروقت معاوضہ، طبی سہولتیں، انشورنس اور قانونی تحفظ فراہم کریں۔ صحافت کے تحفظ کا مطلب صرف صحافی کو قتل سے بچانا نہیں بلکہ اسے معاشی طور پر اتنا خودمختار بنانا بھی ہے کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کسی کے دباؤ کے بغیر ادا کر سکے۔
2 نومبر کا عالمی دن ہمیں صرف ان صحافیوں کی یاد نہیں دلاتا جنہوں نے سچ لکھنے کی قیمت اپنی جان سے ادا کی، بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ان کے قاتلوں کو سزا کیوں نہیں ملی، ان کے خاندانوں کو انصاف کیوں نہیں ملا اور آج بھی خطرات کے باوجود عوام تک معلومات پہنچانے والوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟ پاکستان کے حکمرانوں، سیاسی جماعتوں، انتظامی اداروں، میڈیا مالکان اور صحافتی تنظیموں کو سمجھنا ہوگا کہ صحافت کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کا حق ہے۔ حکومت پر تنقید ریاست دشمنی نہیں، انتظامیہ سے سوال کرنا بغاوت نہیں اور کسی سرکاری پالیسی کی خامیوں کی نشاندہی جمہوریت کے خلاف سازش نہیں۔ اسی طرح صحافی بھی قانون، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ دیانت کے پابند ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن کے کسی دور افتادہ گاؤں میں بیٹھا صحافی جب کسی سکول کی بندش، ہسپتال میں ڈاکٹر کی عدم موجودگی، سڑک کی خستہ حالی، امن و امان کی خرابی یا سرکاری وسائل کے غلط استعمال کی خبر دیتا ہے تو وہ دراصل ان لوگوں کو آواز دے رہا ہوتا ہے جن کی مشکلات اکثر حکومتی ترجیحات میں جگہ نہیں پاتیں۔ اس کی آواز دبانے کا مطلب صرف ایک صحافی کو خاموش کرنا نہیں بلکہ ان شہریوں کو بھی بے آواز کرنا ہے جن کے مسائل اجاگر کرنا اس کا بنیادی فرض ہے۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں صحافی حکومت کی تعریف میں کتنی خبریں شائع کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں اختلافی آوازوں کو کتنی آزادی حاصل ہے، طاقتور سے سوال کرنے والے کو کتنا تحفظ حاصل ہے اور کسی صحافی پر حملہ کرنے والے کو قانون کے تحت کتنی جلدی جواب دہ بنایا جاتا ہے۔
صحافت کو حکمرانوں کی خوشنودی، سیاسی جماعتوں کی ترجمانی اور طاقتور حلقوں کی مرضی کا پابند بنانے کے بجائے حقائق، شواہد، دیانت داری اور عوامی مفاد کے اصولوں پر استوار کرنا ہوگا۔ کیونکہ جس معاشرے میں صحافی خوف کے باعث سوال کرنا چھوڑ دیں، وہاں صرف خبریں خاموش نہیں ہوتیں بلکہ عوام کے حقوق، حکمرانوں کی جواب دہی اور جمہوریت کی روح بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
صحافی کو تحفظ دیجیے، اس کے سوال کا جواب دیجیے اور اس پر حملہ کرنے والے کو سزا دیجیے۔ یہی 2 نومبر کے عالمی دن کا اصل پیغام ہے اور یہی ایک آزاد، باشعور اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔