ثمرباغ: بادین کے ننھے طلبہ کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور، سکول کے دو کمرے سیل، فوری تعمیر کا مطالبہ
ثمرباغ (عمران خان شاہیخیل سے) ثمر باغ کے علاقے بادین میں سرکاری پرائمری سکول کے دو کمرے مخدوش حالت کے باعث سیل کیے جانے کے بعد ننھے طلبہ کا تعلیمی مستقبل اور ان کی مشکلات ایک سنگین سوال بن گئی ہیں۔ سکول میں زیرِتعلیم کمسن بچے، جن میں نرسری اور کے جی کے طلبہ بھی شامل ہیں، اب کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ سردی کی شدت میں زمین پر بیٹھے ان بچوں کا منظر دل کو اداس کر دینے والا ہے۔
گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر ثمر باغ نے گورنمنٹ پرائمری سکول بادین کا دورہ کیا تھا، جہاں عمارت کے دو کمروں کی خستہ حالی اور مخدوش حالت کا جائزہ لینے کے بعد طلبہ کی جان و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انہیں سیل کر دیا گیا۔ بلاشبہ بچوں کو کسی ممکنہ حادثے سے محفوظ رکھنا ضروری تھا، لیکن کمروں کی بندش کے بعد پیدا ہونے والی تعلیمی مشکلات کا حل بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
سکول کے عملے اور اہلیانِ بادین کا کہنا ہے کہ شدید سرد موسم میں کمسن بچوں کا کھلے آسمان تلے بیٹھ کر پڑھنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے۔ بالخصوص نرسری اور کے جی کے بچوں کو فوری طور پر محفوظ چھت اور مناسب تدریسی جگہ کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں سکول کے پرنسپل عطاء الحق نے ایس ڈی او محکمہ تعلیم لوئر دیر کو باقاعدہ تحریری درخواست بھی ارسال کر دی ہے، جس میں سکول کے دونوں مخدوش کمروں کی جگہ نئے کمروں کی تعمیر اور تعمیراتی کام مکمل ہونے تک طلبہ کے لیے محفوظ متبادل تدریسی انتظامات کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
اہلیانِ بادین نے بھی محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کے دونوں خستہ حال کمروں کی جگہ نئے کمروں کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، تاکہ معصوم بچوں کو سردی میں کھلے آسمان تلے بیٹھنے کی اذیت سے نجات ملے اور ان کی تعلیم محفوظ ماحول میں جاری رہ سکے۔