ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، پولیس کانسٹیبل اور پانچ سالہ بیٹا شہید
ٹانک: خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل سعادت اور ان کا پانچ سالہ کمسن بیٹا شہید ہوگئے۔ افسوسناک واقعہ محلہ خدریانوالہ میں پیش آیا، جہاں باپ بیٹا بازار سے سودا سلف لینے جا رہے تھے کہ مسلح افراد نے انہیں فائرنگ کا نشانہ بنا لیا۔پولیس کے مطابق کانسٹیبل سعادت اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ہمراہ معمول کے مطابق بازار کی جانب جا رہے تھے کہ اس دوران نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ اچانک ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ باپ بیٹا گولیوں کی زد میں آکر شدید متاثر ہوئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں پولیس کانسٹیبل سعادت موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ ان کا کمسن بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ واقعے کے فوری بعد زخمی بچے کو طبی امداد کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے اس کی جان بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔باپ بیٹے کی شہادت کی خبر سامنے آنے کے بعد علاقے میں سوگ اور افسوس کی فضا قائم ہوگئی۔ ایک پولیس اہلکار اور اس کے پانچ سالہ معصوم بیٹے کو اس انداز میں نشانہ بنائے جانے پر مقامی شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ واقعے نے ایک بار پھر ٹانک میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔واقعے کے بعد پولیس نے دونوں شہداء کی میتیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کردیں، جہاں ضروری قانونی اور طبی کارروائی مکمل کی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ اور اطراف کے علاقوں میں مشتبہ افراد کی تلاش سمیت واقعے سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے کی کارروائی بھی جاری ہے۔
پولیس نے واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم آخری اطلاعات تک فائرنگ میں ملوث افراد کی شناخت سامنے نہیں آسکی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں تک پہنچنے اور واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔
ٹانک میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے ایک خاندان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ کانسٹیبل سعادت اور ان کے پانچ سالہ بیٹے کی شہادت پر علاقے کے شہریوں نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے