سوات قومی جرگہ کا اجلاس، امن و امان کی صورتحال، تنظیمی امور اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں پر غور
سوات (بیورورپورٹ) سوات قومی جرگہ کے مشران پر مشتمل کارندہ کمیٹی کا اجلاس مینگورہ میں حیدر علی خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کارندہ کمیٹی کے ممبران حاجی زاہد خان، احمد شاہ خان، عبدالجبار خان، اختر علی خان جی، صلاح الدین خان، خواجہ خان، شیر بہادر خان، فضل احد لالہ جی، اقبال حسین بالے، جاوید بھائی جان، صادق عزیز اور خورشید کاکاجی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سوات کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور 13 اگست کو سوات قومی جرگہ کے زیر اہتمام قومی و سماجی مشران کے وسیع تر اجلاس کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے سوات میں امن و امان کی صورتحال میں قدرے بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم اجلاس میں کہا گیا کہ سوات کے بعض پہاڑی علاقوں میں اب بھی دہشت گردوں کی موجودگی اور محدود سرگرمیوں کی اطلاعات ہیں، جس پر حکومت کی جانب سے مبینہ غافلانہ خاموشی اور صورتحال سے سمجھوتے کی روش کو نقصان دہ اور غیر قانونی قرار دیا گیا۔ اجلاس میں جرگے کی تنظیمی صلاحیت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے لائحہ عمل کی منظوری دی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ترجیحی بنیادوں پر تحصیل کی سطح پر قومی زعماء کے اجلاس جلد منعقد کیے جائیں گے۔ اجلاس میں کارندہ کمیٹی میں توسیع کرتے ہوئے تحصیل مٹہ، چارباغ اور منگلور سے بعض مشران کو شامل کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ دیگر تحصیلوں میں بھی یہ عمل مکمل کرکے توسیعی ناموں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ اجلاس کے شرکاء نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر بعض واقعات پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے منتخب قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کی مبینہ گرفتاریوں، گھروں پر چھاپوں، چادر و چار دیواری کی پامالی اور کارروائیوں کے دوران گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی مذمت کی۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے مقامی رہنما خورشید دادا کی مبینہ گمشدگی اور تاحال عدم بازیابی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور ان کے خاندان سے ہمدردی کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ خورشید دادا کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے۔ شرکاء نے منتخب ارکان اسمبلی اور ان کے قریبی رشتہ داروں کی بلاجواز گرفتاریوں اور انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روکنے اور ملک میں قانون کی عملداری یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
۔۔۔۔۔