ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ضلع سوات سمیت بر سوات میں مہم مکمل، تقریباً تمام بچوں تک رسائی حاصل
سوات(بیورورپورٹ)پٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کی تکمیل پر چوتھے روز کا شام کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع سوات اور بر سوات میں مہم کی مجموعی صورتحال، ٹیموں کی فیلڈ کارکردگی، بچوں تک رسائی اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) بر سوات اور دونوں اضلاع کے اسسٹنٹ کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی سید ارحم مختار، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریوینیو) سوات ابرار احمد، ایس پی آپریشنز سوات پولیس، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سوات، این سٹاپ آفیسر سوات، ای پی آئی کوآرڈینیٹر، پی آئی ای کوآرڈینیٹر، محکمہ تعلیم، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے۔این سٹاپ آفیسر ڈاکٹر انور جمال نے مہم کے دوران حاصل ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مقررہ اہداف کے مقابلے میں مجموعی کارکردگی، گھر گھر ٹیموں کی رسائی، قطرے پینے والے بچوں کی تعداد، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی، انکاری والدین سے رابطے، کیچ اَپ سرگرمیوں اور فیلڈ میں درپیش مسائل کا جائزہ پیش کیا گیا۔ بتایا گیا کہ مہم کے دوران تقریباً تمام اہل بچوں تک رسائی حاصل کرلی گئی ہے اور مجموعی کوریج تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ڈپٹی کمشنر سوات نے مہم کے دوران فیلڈ ٹیموں اور متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ حتمی اعداد و شمار کی جانچ کے بعد درست اور بروقت رپورٹ مرتب کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کوئی اہل بچہ قطرے پینے سے رہ گیا ہو وہاں اس کی نشاندہی کرکے فوری طور پر دوبارہ رسائی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے متعلقہ افسران کو کم کوریج والے علاقوں اور دور افتادہ آبادیوں کے ریکارڈ کا خصوصی جائزہ لینے، ٹیموں کی حاضری اور کارکردگی کی تصدیق کرنے اور مہم کے دوران سامنے آنے والے مسائل کو حل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انکاری والدین سے رابطہ برقرار رکھا جائے اور مؤثر آگاہی کے ذریعے انہیں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے پر آمادہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر سوات نے پولیس، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کو باہمی رابطہ اور معاونت جاری رکھنے کی ہدایت کی، تاکہ رہ جانے والے بچوں تک بھی رسائی مکمل ہو اور کوئی اہل بچہ حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔