پاکستان

ایم ڈی کیٹ : جب ایک امتحان پورے مستقبل کا فیصلہ بن جائے

ستمبر 24, 2026 • Press Release

 

تحریر؛ عمران خان شاہیخیل

ہر سال میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلہ ٹیسٹ کا مرحلہ ہزاروں گھروں میں ایک عجیب کیفیت پیدا کرتا ہے۔ کہیں نتیجہ خوشی کی خبر بن کر آتا ہے، کہیں کئی ماہ کی محنت ایک ایسے نمبر میں سمٹ جاتی ہے جو طالب علم کے اگلے سفر کا رخ بدل دیتا ہے، اور کہیں اچھے نمبر لینے کے باوجود نشست دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے منزل دور رہ جاتی ہے۔ اس پورے عمل کو صرف کامیاب اور ناکام امیدواروں کی فہرست کے طور پر دیکھنا دراصل اس مسئلے کی اصل نوعیت کو نظرانداز کرنا ہے۔ ایم ڈی کیٹ ہمارے نوجوانوں کے لیے صرف ایک امتحان نہیں رہا، یہ ایک ایسا مرحلہ بن چکا ہے جس سے خاندان اپنی معاشی ترجیحات، بچے کی تعلیمی سمت اور بعض اوقات پورے مستقبل کو جوڑ دیتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں اس صورت حال کی اپنی مخصوص سماجی اہمیت ہے۔ ملاکنڈ، دیر، سوات اور دیگر نسبتاً دور دراز علاقوں کے بہت سے خاندانوں کے لیے ڈاکٹر بننا صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ کئی نسلوں کی خواہش کا نام ہے۔ ایک گھر میں اگر بیٹا یا بیٹی میڈیکل کی طرف جائے تو اسے تعلیمی کامیابی کے ساتھ خاندان کی سماجی ترقی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی طالب علم کو مطلوبہ نتیجہ نہیں ملتا تو مسئلہ صرف تعلیمی نہیں رہتا۔ بعض اوقات پورا گھر اس نتیجے کو اپنی عزت، امید اور مستقبل کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ یہاں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک نوجوان کی قابلیت کو صرف اس بات سے ناپا جا سکتا ہے کہ وہ ایم بی بی ایس یا بی ڈی ایس کی نشست حاصل کر سکا یا نہیں؟
موجودہ نظام میں ایم ڈی کیٹ یقیناً اہم ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے قواعد کے مطابق داخلے کے میرٹ میں ایم ڈی کیٹ کا حصہ 50 فیصد، ایف ایس سی یا مساوی تعلیم کا 40 فیصد اور میٹرک یا مساوی تعلیم کا 10 فیصد ہے۔ یعنی یہ امتحان فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے، لیکن پورا تعلیمی سفر صرف اسی ایک امتحان کا نام نہیں۔ یہی فرق والدین اور طلبہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طالب علم کسی ایک امتحان میں مطلوبہ کارکردگی نہ دکھا سکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ذہانت، محنت یا مستقبل کی صلاحیت ختم ہوگئی ہے۔
دوسری طرف یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ میڈیکل تعلیم کی نشستیں لامحدود نہیں۔ پی ایم ڈی سی کی موجودہ فہرست میں خیبر پختونخوا کے سرکاری طبی کالجوں میں مختلف اداروں کے لیے نشستوں کی مخصوص تعداد مقرر ہے، جن میں ایوب میڈیکل کالج، خیبر میڈیکل کالج، خیبر گرلز میڈیکل کالج، باچا خان میڈیکل کالج، سیدو میڈیکل کالج اور دوسرے ادارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے میں نجی طبی کالج بھی موجود ہیں، لیکن نجی شعبے کی تعلیم ہر خاندان کے مالی وسائل کے مطابق قابلِ حصول نہیں ہوتی۔ اس لیے یہ توقع رکھنا کہ ہر اچھا طالب علم لازماً ایم بی بی ایس کی نشست حاصل کرلے گا، زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ طبی شعبے کی تعلیم صرف پانچ سالہ ایم بی بی ایس تک محدود نہیں۔ طب کے ساتھ دانتوں کی تعلیم، فارمیسی، نرسنگ، طبی تشخیص، فزیوتھراپی، غذائیت، صحت عامہ، طبی تحقیق، حیاتیاتی علوم اور متعدد دوسرے شعبے موجود ہیں جن کا تعلق براہ راست انسانی صحت سے ہے۔ ایک ایسے نوجوان کے لیے جسے حیاتیات اور انسانی صحت میں دلچسپی ہو لیکن ایم بی بی ایس میں داخلہ نہ مل سکے، ضروری نہیں کہ وہ اپنے پورے شوق سے دستبردار ہوجائے۔ مسئلہ اکثر شعبوں کی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ ان کے بارے میں درست معلومات کی عدم دستیابی کا ہوتا ہے۔
ہمارے تعلیمی نظام کا ایک بڑا خلا یہی ہے کہ طالب علم کو یہ بتایا جاتا ہے کہ کون سا شعبہ مشہور ہے، مگر یہ کم بتایا جاتا ہے کہ کون سا شعبہ اس کی اپنی صلاحیت، مزاج، معاشی حالات اور مستقبل کے منصوبے سے مطابقت رکھتا ہے۔ ایک طالب علم جو تجزیاتی ذہن رکھتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ طب ہی میں اچھا کرے۔ کوئی دوسرا نوجوان مشینوں، کمپیوٹر، شماریات، زبان و ادب ، تحقیق، قانون، تدریس، زراعت یا کاروبار میں غیر معمولی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔ تعلیمی رہنمائی کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طالب علم اپنے اندر موجود صلاحیت کو پہچانے، نہ کہ ہر بچے کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔
خاص طور پر دیہی اور نسبتاً پسماندہ علاقوں میں کیریئر رہنمائی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ ایک طالب علم اکثر اپنے اردگرد موجود چند کامیاب لوگوں کو دیکھ کر اپنے لیے پیشہ منتخب کرتا ہے۔ اگر خاندان میں ڈاکٹر موجود ہے تو ڈاکٹر بننے کا رجحان بڑھ جاتا ہے، اگر کسی رشتہ دار نے سرکاری ملازمت حاصل کی ہے تو مقابلے کے امتحانات منزل دکھائی دینے لگتے ہیں۔ مگر آج کا معاشی اور پیشہ ورانہ منظرنامہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ دنیا کی معیشت میں مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا، حیاتیاتی تحقیق، ماحولیاتی علوم، قابلِ تجدید توانائی، مالیاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تجارت اور جدید زرعی علوم جیسے شعبے مسلسل اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں کو بھی اس وسیع دنیا سے جوڑنا ہوگا۔
یہاں والدین کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ بچے کی فیس ادا کرنا، اس کے لیے کتابیں خریدنا اور اسے امتحان کی تیاری کروانا والدین کی ذمہ داری کا ایک حصہ ہے؛ مگر اس سے بھی بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچے کو اپنی خواہش کا بوجھ نہ بنائیں۔ بعض اوقات والدین کی نیت بالکل درست ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے کو محفوظ، باعزت اور کامیاب مستقبل دینا چاہتے ہیں، لیکن کامیابی کی اپنی تعریف بچے پر نافذ کردیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان اپنی دلچسپی کے بجائے خاندان کی توقع کے مطابق زندگی گزارنے لگتا ہے۔ ایسی تعلیم جو انسان کو اپنی صلاحیت پہچاننے کے بجائے صرف دوسروں کی خواہش پوری کرنا سکھائے، اسے مکمل تعلیم نہیں کہا جاسکتا۔
ایم ڈی کیٹ کے بعد سب سے مشکل مرحلہ ان طلبہ کے لیے ہوتا ہے جو اچھے نمبر لینے کے باوجود مطلوبہ میرٹ تک نہیں پہنچ پاتے۔ ایسے نوجوانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ امتحان دیں، کسی دوسرے طبی شعبے میں جائیں، بیرونِ ملک تعلیم کا راستہ اختیار کریں یا بالکل مختلف تعلیمی میدان کا انتخاب کریں۔ اس موقع پر جذبات کے بجائے اعداد و شمار، مالی حالات، تعلیمی استعداد، وقت اور مستقبل کے مواقع کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ ایک سال دوبارہ کوشش بعض حالات میں مناسب ہوسکتی ہے، مگر ہر طالب علم کے لیے مسلسل کئی سال ایک ہی امتحان کے گرد زندگی کو روک دینا لازماً بہترین حکمت عملی نہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے صرف ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے مراکز نہ بنیں۔ سکولوں اور کالجوں میں باقاعدہ کیریئر گائیڈنس یونٹ ہونے چاہئیں جہاں طلبہ کو مختلف شعبوں کے نصاب، داخلے کی شرائط، اخراجات، وظائف، روزگار کے امکانات، اعلیٰ تعلیم اور عملی میدان کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات دی جائیں۔ ایک طالب علم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ کسی مخصوص شعبے میں داخلہ لیتا ہے تو اگلے پانچ، دس یا پندرہ برس میں اس کے ممکنہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ راستے کیا ہوسکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے دور دراز اضلاع کے لیے یہ ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ پشاور یا بڑے شہری مراکز میں دستیاب معلومات، تعلیمی مشاورت اور تیاری کی سہولتیں ہر طالب علم کو یکساں طور پر حاصل نہیں ہوتیں۔ ملاکنڈ، دیر، چترال، بونیر، باجوڑ اور دوسرے اضلاع کے ذہین طلبہ کو بھی وہی معلومات، رہنمائی اور تعلیمی وسائل ملنے چاہئیں جو بڑے شہروں کے طلبہ کو حاصل ہیں۔ صرف نشستیں بڑھانا کافی نہیں؛ مواقع تک مساوی رسائی بھی ضروری ہے۔
حکومت، جامعات اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے یہ ایک اہم پالیسی معاملہ ہے۔ اگر نوجوانوں کی بڑی تعداد ہر سال ایک محدود تعداد کی نشستوں کے لیے مقابلہ کرتی ہے تو ریاست کو ساتھ ساتھ ایسے تعلیمی اور پیشہ ورانہ راستے بھی مضبوط کرنے چاہئیں جن میں یہی نوجوان اپنی صلاحیت استعمال کرسکیں۔ سرکاری جامعات میں جدید پروگرام، فنی تعلیم کے اداروں میں معیاری تربیت، آئی ٹی اور تحقیق کے مواقع، وظائف، انٹرن شپ اور صنعت سے جڑے ہوئے تعلیمی پروگرام اس مسئلے کا زیادہ پائیدار جواب ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح سول سروس، قانون، معاشیات، تدریس، تحقیق، صحافت، انتظامی علوم، زراعت، ماحولیاتی علوم، کاروبار اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کو بھی محض متبادل راستے کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے حق میں سنجیدہ کیریئر کے طور پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ ایک قابل انجینئر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں کردار ادا کرتا ہے، ایک ماہر زراعت خوراک کے مستقبل سے متعلق مسائل حل کرسکتا ہے، ایک محقق نئی معلومات پیدا کرتا ہے، ایک اچھا استاد کئی نسلوں کو متاثر کرسکتا ہے اور ایک ماہر ٹیکنالوجی نوجوان عالمی منڈی میں بیٹھ کر بھی اپنی خدمات فروخت کرسکتا ہے۔ معاشرے کی ترقی کسی ایک پیشے کی کامیابی سے نہیں بلکہ مختلف مہارتوں کے باہم ملنے سے ہوتی ہے۔
یہاں میڈیکل شعبے کے اندر بھی سوچ کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت کا نظام صرف ڈاکٹر سے نہیں چلتا۔ اس کے پیچھے نرسنگ، فارمیسی، تشخیص، طبی آلات، انتظامیہ، صحت عامہ، تحقیق، بحالیِ صحت اور بے شمار دوسرے ماہرین کام کرتے ہیں۔ اگر ہماری نوجوان نسل صحت کے شعبے میں خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف ایم بی بی ایس کا دروازہ دکھانا دراصل اس کے سامنے موجود کئی دوسرے راستے چھپا دینا ہے۔
ایم ڈی کیٹ کے نتائج اس لیے بھی ہمارے لیے ایک موقع ہیں کہ ہم کامیاب امیدواروں کو مبارک باد دینے کے ساتھ ان نوجوانوں کے بارے میں بھی سوچیں جو اس مرتبہ مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کے پاس وقت، توانائی، تعلیم اور صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ انہیں فوری طور پر اگلا راستہ دکھایا جائے۔ تعلیمی ادارے نتیجے کے بعد طلبہ کے لیے کیریئر مشاورتی نشستیں منعقد کرسکتے ہیں، والدین کو مختلف شعبوں کی معلومات فراہم کرسکتے ہیں اور ایسے طلبہ کے لیے باقاعدہ رہنمائی کا انتظام کرسکتے ہیں جو دوبارہ امتحان دینے یا کسی نئے شعبے میں جانے کے درمیان فیصلہ نہیں کر پا رہے۔
سب سے بڑھ کر ہمیں کامیابی کی تعریف بدلنے کی ضرورت ہے۔ کسی نوجوان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا جانا یقیناً ایک قابلِ احترام کامیابی ہے، لیکن معاشرے کو ایسے افراد بھی درکار ہیں جو بیماری کا علاج کرنے کے ساتھ بیماری سے بچاؤ کی تحقیق کریں، ایسے ماہرین جو پانی، خوراک اور ماحول کے مسائل حل کریں، ایسے انجینئر جو بہتر شہر بنائیں، ایسے اساتذہ جو بہتر نسل تیار کریں، ایسے وکلا جو قانون کو سمجھیں، ایسے محقق جو نئی معلومات پیدا کریں اور ایسے ہنرمند جو اپنے ہاتھ اور ذہن دونوں سے معیشت کو آگے بڑھائیں۔
اس لیے ایم ڈی کیٹ کا ہر نتیجہ ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ کون میڈیکل کالج پہنچا اور کون نہیں پہنچ سکا۔ یہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام سے ایک بڑا سوال بھی پوچھنے کا موقع دیتا ہے کہ کیا ہم اپنے نوجوانوں کو صرف محدود نشستوں کے لیے تیار کر رہے ہیں یا ایک بدلتی ہوئی دنیا کے لیے؟ اگر جواب پہلے کے حق میں ہے تو ہمیں اپنی سوچ، تعلیمی رہنمائی اور پالیسی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کے سامنے دروازے کم نہیں ہونے چاہئیں؛ انہیں یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ اگر ایک دروازہ ان کے لیے نہ کھلے تو وہ اپنی صلاحیت کے مطابق دوسرا دروازہ تلاش کرسکیں، اسے کھولنے کی تیاری کرسکیں اور اپنی زندگی کو کسی ایک امتحان کے نتیجے کا محتاج نہ بنائیں۔