پاکستان

ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کے خلاف احتجاج، بڑے دھرنے، 7 اکتوبر کو سوات موٹروے بند کرنے کا اعلان

ستمبر 30, 2026 • Press Release

سوات (بیورورپورٹ) ملاکنڈ ڈویژن کی جداگانہ آئینی حیثیت کے خاتمے اور ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف ڈویژن بھر کے تمام اضلاع کے ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے گئے۔ سوات میں سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ مینگورہ کے نشاط چوک میں ہوا، جہاں تاجروں، سیاسی و سماجی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس کے علاوہ چار باغ، خوازہ خیلہ، بحرین، مدین، کالام، مٹہ، کبل اور بریکوٹ سمیت سوات کے دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جبکہ بونیر، دیر، چکدرہ، باجوڑ، چترال، شانگلہ اور ملاکنڈ ڈویژن و ملحقہ علاقوں کے دیگر شہروں اور تحصیلوں میں بھی مظاہرین نے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف آواز بلند کی۔ مینگورہ نشاط چوک کے احتجاجی دھرنے سے ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم، مسلم لیگ (ن) کے ارشاد علی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسین بالے، قومی تڑون جرگہ کے حاجی اسحاق زاہد،ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر حاجی زاہد خان، بارگین ایسوسی ایشن ملاکنڈ ڈویژن کے صدر اکبر خان، ڈاکٹر خالد محمود، گوجر قومی تحریک کے ڈاکٹر محمد طارق سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کسی قسم کے ٹیکس کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتے، حکومت فوری طور پر ملاکنڈ ڈویژن کی جداگانہ آئینی حیثیت بحال اور تمام ٹیکسز کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے۔ مقررین نے اعلان کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 7 اکتوبر کو چکدرہ کے مقام پر سوات موٹروے بند کرکے دھرنا دیا جائے گا، اس کے باوجود مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اگلے مرحلے میں بشام کے مقام پر شاہراہِ ریشم بند کرکے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، جس کے بعد سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی۔ مقررین کے مطابق اس مرحلے میں گیس، بجلی اور ٹیلی فون سمیت کسی بھی قسم کے بل جمع نہیں کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں باقاعدہ تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ملاکنڈ ڈویژن کی جداگانہ حیثیت بحال اور ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس لے۔
۔۔۔