سوات پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے فرانزک شواہد پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ
سوات (بیورورپورٹ) پولیس کی استعداد کار میں اضافے اور تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ڈی پی او آفس سوات میں فرانزک شواہد کے موضوع پر ایک روزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں جنس پر مبنی تشدد کے مقدمات میں حیاتیاتی شواہد کی مؤثر جمع آوری، پیکنگ، محفوظ تحویل اور چین آف کسٹڈی کے حوالے سے تفتیشی افسران کو تربیت فراہم کی گئی۔ ورکشاپ میں ایس پی انویسٹی گیشن سوات محمد جمیل اختر، ایس پی انویسٹی گیشن بونیر، دیگر ڈی ایس پیز سمیت سوات، بونیر، شانگلہ اور مالاکنڈ کے تفتیشی افسران جبکہ لیویز فورس کے افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔ ایف ایس ایل ٹیم نے شرکاء کو حیاتیاتی شواہد اکٹھا کرنے، پیکنگ، محفوظ رکھنے، فرانزک تجزیے اور چین آف کسٹڈی برقرار رکھنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ شواہد کو سائنسی اصولوں کے مطابق محفوظ کرنے کا عملی طریقہ کار بھی سکھایا۔ اس موقع پر ایس پی انویسٹی گیشن محمد جمیل اختر نے کہا کہ جدید سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگ تفتیش وقت کی اہم ضرورت ہے، حیاتیاتی شواہد کو درست طریقے سے محفوظ کرنا اور ان کی چین آف کسٹڈی برقرار رکھنا مقدمات کی شفاف تفتیش اور عدالت میں شواہد کی قابل قبولیت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے تفتیشی افسران کو ہدایت کی کہ جدید فرانزک تکنیکوں سے استفادہ کرتے ہوئے میرٹ اور پیشہ ورانہ اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ متاثرین کو بروقت انصاف کی فراہمی اور تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ ورکشاپ کے دوران دیگر افسران نے بھی فرانزک تفتیش سے متعلق اپنے تجربات اور مشاہدات پیش کیے اور شواہد کو سائنسی بنیادوں پر محفوظ بنانے کے حوالے سے مفید تجاویز دیں۔
۔۔۔۔