پاکستان

(لویردیر): تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے کے لیے 993 ملین روپے کی گرانٹ ناگزیر ہے، پروفیسر ڈاکٹر سید ابرار لخکر خان

اکتوبر 26, 2026 • Press Release

(لویردیر ) تیمرگرہ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سید ابرار لخکر خان نے کہا ہے کہ اگر حکومت خیبرپختونخوا کالج کو جلد فعال اور اس میں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز چاہتی ہے تو اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 993 ملین روپے کی گرانٹ اِن ایڈ منظور کی جائے۔
پیر کے روز اپنے دفتر میں میڈیا کو اپنی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر سید ابرار لخکر خان نے کہا کہ ایک سال قبل عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے کے لیے دن رات محنت کی اور اس مقصد کے حصول کے لیے متعدد اہم اقدامات اٹھائے۔
انہوں نے بتایا کہ کالج کے مختلف شعبہ جات میں اضافہ کیا گیا، جدید تعلیمی و طبی ضروریات کے پیش نظر لیبارٹریز قائم کی گئیں، انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے دفتر میں ایڈمن بلاک قائم کیا گیا، جبکہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے قواعد و ضوابط کے مطابق مطلوبہ اراضی کے حصول کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔ اس کے علاوہ کالج میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے میدان کا انتظام بھی کیا گیا۔
پرنسپل کے مطابق، کالج میں کلاسز کے آغاز کے لیے 25 فیکلٹی ممبران کو شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا تھا، تاہم کالج میں تدریسی سرگرمیاں شروع نہ ہونے کے باعث ان میں سے بیشتر واپس چلے گئے، جس کے نتیجے میں اب صرف 18 فیکلٹی ممبران رہ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تیمرگرہ میڈیکل کالج کی رجسٹریشن بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سید ابرار لخکر خان نے کہا کہ کالج کو درپیش مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت سے 993 ملین روپے کی گرانٹ اِن ایڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ گرانٹ کی منظوری سے کالج کے بنیادی اور ضروری انتظامات مکمل کرنے میں مدد ملے گی اور اسے فعال بنانے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔
کالج میں تدریسی سرگرمیوں کے آغاز سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر حکومت میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئیز) کے تحت کام کرنے والے فیکلٹی ممبران کو تیمرگرہ میڈیکل کالج میں تعینات یا منتقل کرنے کا فیصلہ کرے، یا 60 سال سے زائد عمر کے سابق فیکلٹی ممبران کو خدمات انجام دینے کی اجازت دے، تو آئندہ تین ماہ کے اندر کلاسز کا آغاز ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے حکومت خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے، طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانے اور علاقے میں طبی تعلیم کے فروغ کے لیے مطلوبہ فنڈز کی فوری منظوری سمیت ضروری اقدامات کیے جائیں