پاکستان

تیمرگرہ: حاجی آباد کے ملکانان کا 2300 کنال لیز اراضی کی واپسی کا مطالبہ، مطالبات تسلیم نہ ہونے پر راست اقدام کی دھمکی

اکتوبر 29, 2026 • Press Release

تیمرگرہ (اسماعیل انجم سے)
ملکانانِ حاجی آباد نے گورنر خیبرپختونخوا، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر لوئر دیر سے مطالبہ کیا ہے کہ 1981 میں افغان مہاجرین کے لیے لیز پر حاصل کی گئی 2300 کنال اراضی انہیں فوری واپس کی جائے۔ مطالبات تسلیم نہ ہونے اور تاخیری حربے جاری رہنے کی صورت میں انہوں نے راست اقدام (ڈائریکٹ ایکشن) کی دھمکی دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، تیمرگرہ پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملکانانِ حاجی آباد کے نمائندوں ثناء اللہ، حاجی وارث خان، ملک حیات اور دیگر نے کہا کہ 1981 میں ان کے 107 مشران اور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت تیمر کیمپ میں واقع 2300 کنال اراضی افغان مہاجرین کے لیے لیز پر دی گئی تھی۔
رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے بعد ضلع بھر میں قائم دیگر کیمپس خالی کروا کر زمینیں ان کے اصل مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں، تاہم حاجی آباد کے ملکانان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ لوئر دیر کو تمام تر مطلوبہ اور قانونی دستاویزات فراہم کی جا چکی ہیں، اس کے باوجود ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اور انہیں بلاوجہ تاخیری حربوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
اس موقع پر انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے یہ بھی پرزور مطالبہ کیا کہ باقاعدہ حد بندی ہونے تک ان کی اراضی سے متصل ‘میاں گان گڑگیہ’ کو ان کی زمینوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے سختی سے باز رکھا جائے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر ملکانان نے حکام بالا کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا کہ وہ اپنے جائز حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ اگر انتظامیہ نے اپنا رویہ نہ بدلا، انہیں ان کی آبائی اراضی واپس نہ کی گئی اور ان کی اراضی میں مداخلت کا نوٹس نہ لیا گیا، تو وہ راست اقدام پر مجبور ہوں گے جس کے بعد پیدا ہونے والی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔