خال بازار میں تجاوزات کی آڑ میں دکانوں کی مسماری کے خلاف تاجروں کا احتجاجی مظاہرہ، 3 گھنٹے بازار بند
لوئیر دیر ) خال بازار میں تجاوزات کی آڑ میں دکانوں کی مسماری کے خلاف انجمن تاجران خال بازار اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور تین گھنٹوں کے لیے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی۔احتجاج کے دوران خال بازار کی تمام چھوٹی بڑی دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے، جس سے بازار میں مکمل سناٹا چھا گیا۔ تاجروں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے خال بازار میں احتجاجی مظاہرہ کیا احتجاجی مظاہرے سے انجمن تاجران خال بازار کے صدر اخونزادہ حمید الرحمن، اخونزادہ تلاوت خان، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین جماعت اسلامی کے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی شاد نواز خان، اخونزادہ فاضل سید، ملک نعمان یوسف زئی، اخونزادہ ظہور زادہ، اخونزادہ حنیف اللہ، میاں شرین زادہ، اخونزادہ تیمور شاہ اور دیگر نے خطاب کیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ جی ٹی روڈ کا 40 فٹ کا معاہدہ ہمارے پاس موجود ہے اور تاجروں نے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر 40 فٹ کے اندر تجاوزات ہٹا دی ہیں، لیکن اس کے باوجود انتظامیہ نے 66 فٹ کے حساب سے دکانوں پر جو نئے نشانات لگائے ہیں اور 66 فٹ کے حوالے سے جو اعلانات کر رہے ہیں وہ کسی بھی صورت منظور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے اور ضلعی انتظامیہ معاہدے کیخلاف ورزی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 66 فٹ کے نام پر سینکڑوں قدیمی دکانوں کو مسمار کرنا غریب تاجروں کا معاشی قتل ہے، اس سے ہزاروں خاندان بے روزگار ہو جائیں گے۔مقررین نے واضح کیا کہ اگر ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے نے 66 فٹ کے حساب سے آپریشن کیا تو تاجر برادری اس فیصلے کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی، دھرنے دیں گے اور غیر معینہ مدت تک بازار بند رکھنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔آخر میں تاجروں نے ڈپٹی کمشنر دیر لوئر اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کا نوٹس لے کر تاجروں کے ساتھ مذاکرات کر کے انصاف فراہم کریں اور تجاوزات کے نام پر کی جانے والی ناانصافی کو روکا جائے۔