پاکستان

پنجاب حکومت کی پٹرول سبسڈی: حقیقت یا کاغذی دعویٰ؟

ستمبر 21, 2026 Press Release

​پنجاب حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو پٹرول پر سبسڈی دینے کا اقدام بظاہر ایک خوش آئند اور عوام دوست قدم نظر آتا ہے، لیکن اس کا طریقہ کار، پیچیدہ نظام اور زمینی شرائط اس کے اصل مقصد کو دھندلا رہی ہیں، پالیسی کے مطابق ریلیف حاصل کرنے کے لیے ایک وقت میں 5 لیٹر پٹرول ڈلوانا لازمی قرار دیا گیا ہے اور یہی شرط اس سکیم کی سب سے بڑی ناکامی بن کر سامنے آئی ہے، ہمارے معاشرے کی تلخ معاشی حقیقت یہ ہے کہ ایک دیہاڑی دار، مزدور، ریڑھی بان یا نچلے درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص جو روزانہ کی بنیاد پر بمشکل 100، 200 یا 300 روپے کا پٹرول ڈلواتا ہے، وہ ایک وقت میں 5 لیٹر پٹرول کی یکمشت ادائیگی کی معاشی استطاعت ہی نہیں رکھتا، یوں وہ طبقہ جو مہنگائی کے اس دور میں اس سبسڈی کا سب سے زیادہ حق دار اور نیازمند تھا، اس غیر منطقی شرط کی وجہ سے خود بخود اس ریلیف سے محروم ہو گیا ہے، اس کے علاوہ اس سکیم کا کوڈ اور میسجنگ پراسیس اس قدر پیچیدہ بنایا گیا ہے کہ ایک عام اور کم پڑھے لکھے شہری کے لیے اسے سمجھنا اور پٹرول پمپ پر کھڑے ہو کر اس تمام طریقہ کار سے گزرنا کسی دشواری سے کم نہیں، مزید تشویش ناک اور عجیب صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی غریب شہری مجبوری میں صرف ایک لیٹر پٹرول ڈلواتا ہے تو اسے اس ایک لیٹر پر رعایت تو دے دی جاتی ہے مگر پٹرول پمپ کا عملہ فوراً یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیتا ہے کہ سبسڈی کی یہ سہولت ہفتے میں صرف ایک بار ہی استعمال کی جا سکتی ہے چاہے آپ ایک لیٹر ڈلوائیں یا 5 لیٹر، اس صورتحال اور ابہام پر یہ سنگین سوالات جنم لیتے ہیں کہ اگر ایک دیہاڑی دار اپنی ضرورت کے مطابق صرف ایک ہی لیٹر پٹرول ڈلواتا ہے تو کیا اس کے باقی چار لیٹر کا ہفتہ وار کوٹہ ضائع کر دینا حکومت کی اپنی غلط حکمتِ عملی اور ناقص ہدایات کا نتیجہ ہے؟ یا پھر یہ پٹرول پمپ مالکان اور عملے کی اپنی من مانی اور بدمعاشی ہے جس پر مقامی انتظامیہ نے مکمل طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں؟ کیا پالیسی سازوں نے یہ سکیم مرتب کرتے وقت زمین پر رہنے والے عام انسان کی مالی حیثیت، روزمرہ کی جیب اور پمپوں پر ہونے والے اس کھلے استحصال کا ذرا برابر بھی جائزہ نہیں لیا تھا؟ حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق میں یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ ایوانوں میں بیٹھے حکمران عام آدمی کے بنیادی معاشی مسائل سے بالکل ناواقف ہیں، جب تک پالیسی ساز بند کمروں سے باہر نکل کر پٹرول پمپوں پر موجود مسافروں اور مزدوروں کا غم نہیں سمجھیں گے تب تک کوئی بھی سرکاری سکیم عوامی ریلیف کا ذریعہ نہیں بن سکتی، ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر پٹرول پمپوں کی مانیٹرنگ کا نظام سخت کرے اور من مانی کرنے والے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے، اگر ایک عام شہری کو اپنی محدود گنجائش کے مطابق 100 روپے یا ایک لیٹر پٹرول ڈلوانے پر اس کا شفاف حق نہیں مل سکتا تو پھر ایسے ریلیف کی افادیت پر سوالیہ نشان قائم ہونا فطری امر ہے، حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ریلیف وہی کارآمد ہوتا ہے جو عام آدمی کی پہنچ میں ہو نہ کہ وہ جو محض شرائط کے جال میں الجھ کر رہ جائے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے حکمرانوں کو بصیرت اور انصاف کے ساتھ پالیسیاں بنانے کی توفیق عطا فرمائے، عوام الناس کی مشکلات میں آسانی پیدا کرے اور ہمارے ملک و قوم کو ہر قسم کی بے حسی، استحصال اور بدانتظامی سے محفوظ رکھے۔ آمین