پاکستان

بیٹے کو نوکری نہ ملنے پر مالکِ اراضی نے سکول کو تالے لگا دیے بونیر: وادی

اکتوبر 3, 2026 • Press Release

بونیر: واد گوکند میں سکول بند، مالکِ اراضی کا پریس کلب کے سامنے احتجاج، بیٹے کی بھرتی تک تالے نہ کھولنے کا اعلان

بونیر (بیورو چیف اے آر عابد بونیری): تحصیل ڈگر کی وادی گوکند کے گاؤں شودرہ میں سکول کے لیے اراضی فراہم کرنے والے مالکِ زمین نے اپنے بیٹے کو نوکری نہ ملنے پر سکول کو تالے لگا دیے اور اہلِ علاقہ کے ہمراہ بونیر پریس کلب پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ اور پریس کانفرنس کی۔

مالکِ اراضی قدرمند نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سابق سپیکر بخت جہان کے دور میں انہوں نے اپنی خریدی ہوئی دو کنال اراضی سکول کے لیے فراہم کی تھی، جس کے بدلے انہیں سرکاری ملازمت دی گئی۔ ان کے مطابق وہ تقریباً 20 سال ملازمت کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے اور اب ان کا مطالبہ ہے کہ ان کی جگہ ان کے بیٹے کو بھرتی کیا جائے۔

قدر مند کے مطابق پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور محکمہ تعلیم کے افسران کی جانب سے بھی ان کے بیٹے کو ملازمت دینے کے وعدے کیے گئے تھے، تاہم آج صبح انہیں معلوم ہوا کہ اسی سکول میں کسی اور شخص کو بھرتی کیا جا رہا ہے، جس پر اہلِ علاقہ کے تعاون سے سکول کو تالے لگا دیے گئے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے بیٹے کو ملازمت نہیں دی جاتی، سکول کے تالے نہیں کھولے جائیں گے اور طلبہ و عملے کو سکول میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس موقع پر ان کے قریبی رشتہ دار محمد عمر نے بھی مالکِ اراضی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پورا گاؤں انہیں حق بجانب سمجھتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

پی ٹی سی چیئرمین علی رحمان نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مالکِ اراضی کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے بیٹے کے لیے ملازمت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک غریب شخص نے قیمتی اراضی سکول کے لیے فراہم کی اور اس کے بدلے صرف ملازمت حاصل کی، اس لیے مالکِ اراضی کے خاندان کے حق کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے سیاسی قیادت اور متعلقہ سرکاری اداروں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر فریقین کے درمیان مسئلہ حل کیا جائے تاکہ سکول دوبارہ کھولا جا سکے اور طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔

مقامی افراد نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ سکول کی بندش سے بچوں کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہوگا اور ان کی تعلیم و مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کو فوری طور پر حل کرکے سکول میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جائیں۔