بلوچستان میں شاہراہوں کے 10 منصوبے 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف
اسلام آباد۔30 اکتوبر (اے بی سی):بلوچستان میں 644 ارب 6 کروڑ روپے کے مجموعی منظور شدہ پی سی ون لاگت کے حامل شاہراہوں کے 10 بڑے منصوبے 2026 سے 2028 کے دوران مکمل کرنے کا شیڈول مقرر کیا گیا ہے۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ان منصوبوں پر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت عمل درآمد کیا جا رہا ہے جن کا مقصد صوبے بھر میں سڑکوں کے رابطوں کو مضبوط بنانا، تجارت کو سہولت فراہم کرنا اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہراہوں کے تین منصوبے دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مزید 6منصوبوں کی تکمیل کی آخری تاریخیں 2027 میں ہیں۔ ایک بڑا منصوبہ جون 2028 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔تکمیل کے قریب پہنچنے والے منصوبوں میں کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس (این-25) کو 22.7 کلومیٹر تک دو رویہ کرنے کا منصوبہ شامل ہے جس کی لاگت 6 ارب 89 کروڑ روپے ہے، اس منصوبے پر 85 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ اخراجات 6 ارب 5 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل نومبر 2026 میں مقرر ہے۔
اسی طرح 103 کلومیٹر طویل نوکنڈی-ماشکیل سڑک کے منصوبے پر 79 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت 7 ارب 71 کروڑ روپے ہے جبکہ اب تک 6 ارب 94 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ منصوبہ دسمبر 2026 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔79.89 کلومیٹر طویل جھل جھائو-بیلہ سڑک کے منصوبے کی لاگت 16 ارب 22 کروڑ روپے ہے، اس پر 70 فیصد تعمیراتی پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اخراجات 13 ارب 87 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل بھی دسمبر 2026 میں مقرر ہے۔
دستاویزات کے مطابق سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ قومی شاہراہ این-25 پر مرکوز ہے جو کراچی، کوئٹہ اور چمن کو ملانے والی ایک اہم نقل و حمل کی گزرگاہ ہے۔این-25 کے 330.52 کلومیٹر طویل خضدار-کچلاک سیکشن کی منظور شدہ پی سی ون لاگت 98 ارب 90 کروڑ روپے ہے۔ اس منصوبے پر 61 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ ستمبر 2026 تک 42 ارب 86 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے تھے، منصوبے کی تکمیل دسمبر 2027 میں مقرر ہے۔ایک اور بڑے منصوبے میں 273 کلومیٹر طویل کراچی-کرارو اور وڈھ-خضدار سیکشن شامل ہے جس کی منظور شدہ لاگت 183 ارب 42 کروڑ روپے ہے۔
اس منصوبے پر اب تک 36 ارب 53 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ تعمیراتی پیش رفت 19 فیصد ہے۔ منصوبہ دسمبر 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح 187 کلومیٹر طویل کرارو-وڈھ اور کچلاک-چمن سیکشن کی لاگت 132 ارب 75 کروڑ روپے ہے۔ اس منصوبے پر 30 ارب 7 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ تعمیراتی پیش رفت 22 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کی تکمیل بھی دسمبر 2027 میں مقرر ہے۔دریں اثنا، ایم-8 کے 168 کلومیٹر طویل آواران-نال سیکشن کی منظور شدہ لاگت 32 ارب 24 کروڑ روپے ہے، اس منصوبے پر 52 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ اخراجات 20 ارب 45 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
منصوبے کی تکمیل جون 2027 میں مقرر ہے۔146 کلومیٹر طویل ہوشاب-آواران سڑک کے منصوبے کی لاگت 25 ارب 84 کروڑ روپے ہے اس پر 64 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ اب تک 9 ارب 75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ بھی جون 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔این-50 کے یارک-ساگو سے ژوب تک سیکشن کو دو رویہ کرنے اور بہتر بنانے کے منصوبے ،جس میں ژوب بائی پاس بھی شامل ہے، کی منظور شدہ لاگت 76 ارب 49 کروڑ روپے ہے،تاہم اس منصوبے پر تعمیراتی پیش رفت صرف 2 فیصد ہے جبکہ اخراجات 97 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچے ہیں۔
اس کی تکمیل نومبر 2027 میں مقرر ہے۔ 2028 میں مکمل ہونے والے منصوبوں میں این-50 کا 305 کلومیٹر طویل کچلاک-ژوب سیکشن بھی بنیادی ڈھانچے میں ایک بڑی سرمایہ کاری ہے جس کی منظور شدہ پی سی ون لاگت 63 ارب 60 کروڑ روپے ہے،اس منصوبے پر 16 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ ستمبر 2026 تک اخراجات 11 ارب 71 کروڑ روپے تک پہنچ گئے تھے۔ منصوبے کی تکمیل جون 2028 میں مقرر ہے۔