یہ قانون کی حکمرانی ہے یا بااثر لوگوں کی مرضی؟
تحریر(لیاقت سیماب درانی)
ایک طرف عوام شکوہ کرتی ہے کہ پاکستان میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں، قانون صرف غریب کے لیے ہے اور طاقتور ہر قانون سے بالاتر ہے۔ لیکن جب حکومت قانون پر عمل درآمد کے لیے حرکت میں آتی ہے تو یہی معاشرہ عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ عوام کے بعض نمائندے، بااثر سیاست دان اور جاگیردار قانون کی عمل داری کے راستے میں دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
حالیہ تجاوزات کے خلاف آپریشن اس کی واضح مثال ہے۔
آج غریب عوام کی ایک بڑی تعداد اس اقدام کو خوش آئند قرار دے رہی ہے، کیونکہ عوام جانتی ہے کہ کھلی سڑکیں، کشادہ بازار اور سرکاری اراضی کا تحفظ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری قوم کا حق ہے۔ مگر افسوس! جن لوگوں نے سرکاری زمین پر تجاوزات قائم کرکے گھر، دکانیں اور عمارتیں بنائی ہیں، ان کی پریشانی کو غریب عوام کے دکھ کا نام دے کر سیاست چمکائی جا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان سیاسی رہنماؤں کو کبھی اس غریب باپ کا خیال آیا جس کا بچہ بازار میں ٹریفک کے رش میں پھنس جاتا ہے؟ کیا انہیں اس مریض کی تکلیف نظر آتی ہے جس کی ایمبولینس تجاوزات کی وجہ سے راستہ نہیں بنا پاتی؟ کیا انہیں آنے والی نسلوں کے مستقبل کی کوئی فکر ہے؟
یا پھر ان کی ساری ہمدردی صرف اپنی جائیداد، اپنے مفادات اور اپنے ووٹ بینک تک محدود ہے؟
غریب عوام سے میری ایک درد مندانہ اپیل ہے کہ خدارا! ایک بار پھر کسی کے سیاسی کھیل کا مہرہ نہ بنیں۔ جن لوگوں نے برسوں آپ کے جذبات، ووٹ اور اعتماد کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، انہیں اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگانے کا مزید موقع نہ دیں۔
یاد رکھیے! آج چند لوگوں کی دکانیں اور جائیدادیں بچانے کے لیے اگر بازاروں کو تنگ رکھا گیا تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
ذرا تصور کریں، 2050ء کا ثمرباغ، منڈا اور جندول کیسا ہوگا؟ اگر آج ہم نے اپنے بازاروں، سڑکوں اور سرکاری زمینوں کو تجاوزات سے آزاد نہ کیا تو شاید کل گاڑی تو دور، سائیکل کھڑی کرنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔
ہمیں کسی غریب کا روزگار چھیننے کی حمایت نہیں، لیکن سرکاری زمین پر ناجائز قبضے کو غریب کی مجبوری کا نام دے کر تحفظ دینا بھی کسی صورت انصاف نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ قانون سب کے لیے یکساں رکھے، کسی غریب کے ساتھ زیادتی نہ ہو اور کسی بااثر شخص کو رعایت نہ ملے۔
یہ وقت سیاست چمکانے کا نہیں، آنے والی نسلوں کا مستقبل بچانے کا ہے۔ یہ وقت ذاتی مفادات کا نہیں، اجتماعی بھلائی کا ہے۔
آئیے! قانون کا ساتھ دیں، اپنے شہروں کو کشادہ کریں، اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل چھوڑ کر جائیں۔ کیونکہ قومیں اپنے مفادات بچانے سے نہیں بلکہ اپنے آنے والے کل کو محفوظ بنانے سے ترقی کرتی ہیں۔