خیرپور میں کھجور کی برآمدات اور ویلیو ایڈیشن بڑھانے کے لیے 59 کروڑ روپے کا منصوبہ

Spread the love

اسلام آباد۔23مارچ (اے پی پی):پاکستان کے کھجور کے شعبے میں تحقیق اور بعد از برداشت (پوسٹ ہارویسٹ)انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے خیرپور میں ڈیٹ پام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ڈی پی آر آئی) کی اپ گریڈیشن کے لیے 592.364 ملین روپے کا منصوبہ تجویز کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پانچ سالہ منصوبہ جولائی 2026 سے جون 2031 تک جاری رہے گا ، اسے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک)کرے گی۔یہ منصوبہ حکومت کی ترقیاتی ترجیحات جن میں 5 ایز فریم ورک، تیرہواں پانچ سالہ منصوبہ اور نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پروگرام (این اے آئی جی پی) شامل ہیں، کے مطابق ہے اور کھجور کے شعبے میں جدت اور کمرشلائزیشن کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔اس اقدام کے تحت تحقیق کی کمرشلائزیشن اور زرعی پراسیسنگ نظام کو مضبوط بنایا جائے گا، معیاری کھجور مصنوعات کے ذریعے برآمدات کو فروغ دیا جائے گا اور ماحولیاتی شعبے کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ توانائی اور انفراسٹرکچر کے تحت پراسیسنگ سہولیات کو مضبوط کیا جائے گا، ای پاکستان کے تحت تحقیقی نظام کو سپورٹ ملے گی جبکہ ایکویٹی اینڈ ایمپاورمنٹ کے تحت دیہی روزگار کو بہتر بنایا جائے گا۔ڈی پی آر آئی کی اپ گریڈیشن کا مقصد اعلیٰ قدر کی باغبانی کو فروغ دینا ہے جس کے لیے ٹشو کلچر کے ذریعے اعلیٰ معیار کی کھجور کی اقسام کی افزائش، جدید پیداواری ٹیکنالوجیز کا تعارف اور بعد از برداشت پراسیسنگ کو بہتر بنا کر برآمدی ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں اضافہ کیا جائے گا۔منصوبے کے مخصوص اہداف میں اجوا، برہی، ڈیگلیٹ نور، حیانی، کینٹا، مبروم، مجہول اور پیاروم جیسی غیر ملکی اور اعلیٰ اقسام کی تیز رفتار افزائش ٹشو کلچر تکنیک کے ذریعے شامل ہے، اس کے ساتھ پیداوار میں فرق کم کرنے کے لیے بہتر ٹیکنالوجیز تیار کی جائیں گی، بعد از برداشت نقصانات کم کرنے کے لیے موثر پراسیسنگ طریقے متعارف کرائے جائیں گے اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی کمرشلائزیشن کو فروغ دیا جائے گا۔

اہم اہداف میں خیرپور میر میں جدید طریقوں جیسے پولینیشن، آبپاشی، کھاد کے بہتر استعمال اور کیڑوں کے کنٹرول کے ذریعے اعلیٰ اقسام کے باغات کی ترقی شامل ہے۔منصوبے کے تحت ایک جدید ٹشو کلچر لیبارٹری قائم کی جائے گی جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 2.00,000 پودے ہوگی اور ابتدائی مرحلے میں تقریباً 3,000 ایکڑ رقبے پر کام کیا جائے گا۔ بعد ازاں اس صلاحیت کو بڑھا کر 400,000 پودے سالانہ کر دیا جائے گا جس سے ہر سال تقریباً 6,000 ایکڑ باغات کی تبدیلی ممکن ہو سکے گی۔اس کے علاوہ 40 سولر ٹنل ڈرائرز نصب کیے جائیں گے جن میں ہر ایک کی لوڈنگ صلاحیت ایک ٹن ہوگی، جبکہ کسانوں کے کھیتوں میں معیاری سطح کی پراسیسنگ اور پیکیجنگ سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ بعد از برداشت عمل اور مصنوعات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

مزید برآں، ہر سال تقریباً 10 برآمدی معیار کی ویلیو ایڈڈ کھجور مصنوعات تیار کی جائیں گی تاکہ ضائع ہونے والی کھجور کو تجارتی طور پر قابلِ استعمال مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ کھجور کی پیداوار اور پروسیسنگ ویلیو چین میں مہارت بڑھانے کے لیے سالانہ تقریباً 1,000 افراد کی تربیت بھی کی جائے گی۔اعلیٰ قدر کی باغبانی کے فروغ، پراسیسنگ انفراسٹرکچر کی بہتری اور تحقیقی نظام کی مضبوطی کے ذریعے یہ منصوبہ پاکستان کی کھجور کی صنعت کی مسابقت بڑھانے کے ساتھ دیہی معیشت اور زرعی ترقی کو بھی سہارا دۓ گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button