پنجاب میں مون سون سے قبل سیلاب سے بچاؤ کی تیاریاں تیز

Spread the love

اسلام آباد/لاہور۔18مئی (اے بی سی):محکمہ آبپاشی پنجاب نے آئندہ مون سون سیزن کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبے بھر میں آبپاشی کے ڈھانچے، بشمول اسپرز، حفاظتی بندوں اور نہری ہیڈورکس کے قبل از سیلاب معائنے شروع کر دیے ہیں۔یہ معائنے نامزد ٹیموں کی جانب سے کیے جا رہے ہیں جنہیں متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت حاصل ہے۔پنجاب کے ڈائریکٹر، ایریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر معائنے کے دوران کسی ڈھانچے میں کمزوری یا نقصان پایا جاتا ہے تو ٹیموں کی سفارشات کی روشنی میں فوری طور پر اس کی مرمت اور مضبوطی کا کام شروع کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے دریاؤں کے کناروں پر واقع اسپرز اور حفاظتی بندوں کا ساختی جائزہ ایک مسلسل عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ڈھانچوں کی بروقت مرمت اور مضبوطی آئندہ مون سون سیزن، جو جون کے وسط میں شروع ہوتا ہے، کے دوران 2025 جیسی سیلابی صورتحال سے بچنے میں مدد دے گی۔گزشتہ سال اگست اور ستمبر کے دوران دریائے راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلاب کے باعث پنجاب میں 39 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے۔ یہ سیلاب بنیادی طور پر شدید مون سون بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی کے اخراج کے نتیجے میں آیا تھا۔28 اضلاع کے ہزاروں دیہات زیر آب آ گئے تھے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا جبکہ 48 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ یہ گزشتہ کئی دہائیوں کے بدترین سیلابی واقعات میں شمار کیا گیا تھا۔ڈاکٹر سیال نے بتایا کہ 2025 کے سیلاب کے دوران آئی آر آئی نے دریائے ستلج پر اسلام ہیڈورکس کے مقام پر اولڈ میلسی کینال کے ذریعے تقریباً 12 ہزار ایکڑ فٹ سیلابی پانی کو منیجڈ ایکویفر ری چارج (MAR) کے لیے استعمال کیا، جس کے ذریعے بحران کو ایک موقع میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ نہر کے بستر میں مجموعی طور پر 144 ری چارج کنویں تعمیر کیے گئے تھے۔دوسری جانب، گزشتہ سال کی طرح دریائے راوی کے باعث لاہور کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو زیر آب آنے سے بچانے کے لیے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RUDA) نے دریا کے کناروں پر حفاظتی بندوں کی تعمیر کا کام تیز کر دیا ہے۔روڈا کے ترجمان شیر افضل بٹ نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ لاہور کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے دریائے راوی کے دونوں کناروں پر 46 کلومیٹر طویل حفاظتی بند تعمیر کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حفاظتی ڈھانچے راوی سائفن سے جھوک جنگلات تک تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے کے تحت دریا کے پاٹ کو کم از کم ایک کلومیٹر تک وسیع کیا جائے گا تاکہ شدید سیلابی حالات میں بھی پانی کے بہاؤ کو منظم رکھا جا سکے۔گزشتہ سال لاہور نے تقریباً 40 برس بعد دریائے راوی میں پہلی بڑی سیلابی صورتحال کا سامنا کیا تھا، جو شدید مون سون بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی کے زیادہ اخراج کے باعث پیدا ہوئی تھی۔پنجاب حکومت نے آئندہ مون سون سیزن کے لیے مختلف محکموں کی تجاویز کو یکجا کرتے ہوئے ایک مربوط سیلابی انتظامی منصوبے پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ آئندہ مون سون کے دوران کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button