بلوچستان میں ہنگامی طبی ردعمل مضبوط بنانے کے لیے 90 کروڑ 30 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری

Spread the love

اسلام آباد۔30مئی (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) نے بلوچستان کے 15 اسپتالوں میں ہنگامی طبی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 90 کروڑ 30 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ اقدام آفات سے نمٹنے کی استعداد بڑھانے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثرہ اضلاع میں موافقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ منصوبے ان اضلاع میں نافذ کیے گئے جو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات سے شدید متاثر ہوئے، جن میں چاغی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، نصیر آباد، پشین اور لورالائی شامل ہیں۔ صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کا یہ پروگرام کوئٹہ، پشین، نصیر آباد، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، چاغی، کیچ، خضدار، پنجگور، گوادر، آواران، واشک، وڈھ، نوشکی، خاران اور قلات سمیت مختلف اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔

صحت کے شعبے میں مداخلت کے علاوہ این ڈی آر ایم ایف نے بلوچستان میں آفات سے بچاؤ کے بنیادی ڈھانچے پر بھی سرمایہ کاری کی۔دستاویزات کے مطابق ادارے نے 88 سیلابی تحفظی ڈھانچوں کی تعمیرِ نو اور بحالی کا کام مکمل کیا تاکہ کمزور اور خطرات سے دوچار آبادیوں کو بار بار آنے والے اچانک سیلابوں اور موسمیاتی آفات سے محفوظ بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں پانی کے بہتر انتظام اور موسمیاتی لچک بڑھانے کے لیے 20 چھوٹے ڈیم اور آبی تحفظ کے ڈھانچے تعمیر کیے گئے۔

فنڈ نے 15 سرکاری عمارتوں، جن میں اسکول اور بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) شامل ہیں، کی ساختی مضبوطی کے لیے انہیں قدرتی آفات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بنایا۔مزید برآں، مقامی آبادی کو ممکنہ آفات سے بروقت آگاہ کرنے اور جانی و مالی نقصانات کے خطرات کم کرنے کے لیے ایک ابتدائی انتباہی نظام بھی نصب کیا گیا۔دستاویزات میں ان اقدامات کو پاکستان کے پسماندہ اور موسمیاتی خطرات سے دوچار علاقوں میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت اور تیاری کو بہتر بنانے کے لیے این ڈی آر ایم ایف کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button