پاکستان میں ماحولیاتی مہارتوں کی تربیت کے لیے گرین یونیورسٹی قائم کی جائے گی

Spread the love

اسلام آباد-18جون (اے بی سی):پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ماحولیاتی مہارتوں سے آراستہ افرادی قوت تیار کرنے، سبز جدت (گرین انوویشن) کو فروغ دینے اور پائیدار و کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی میں مدد کے لیے گرین یونیورسٹی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ نوجوان پیشہ ور افراد کو جدید گرین مہارتوں سے لیس کرنے اور موسمیاتی و ماحولیاتی شعبوں میں عملی تحقیق کی حوصلہ افزائی کے لیے اس منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

مجوزہ یونیورسٹی سے توقع ہے کہ وہ ایسی افرادی قوت کی تیاری میں اہم کردار ادا کرے گی جو موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ماحولیاتی پائیداری، قابلِ تجدید توانائی اور وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق ابھرتے ہوئے شعبوں کی ضروریات پوری کر سکے۔ماحولیاتی جدت کے فروغ کے لیے وزارت "شارک ٹینک” طرز کا نیشنل گرین اسٹارٹ اپ انوویشن چیلنج بھی شروع کر رہی ہے۔ اس اقدام کے تحت کاروباری افراد اور جدت کاروں کو موسمیاتی لحاظ سے مؤثر کاروباری آئیڈیاز ممکنہ سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

اس پروگرام کا مقصد سرمایہ کاری، رہنمائی اور شراکت داریوں تک رسائی آسان بنانا، نوجوانوں کو موسمیاتی اقدامات میں شامل کرنا اور گرین کاروباروں کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔پاکستان اپنے موسمیاتی گورننس فریم ورک کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی (PCCA)، پاکستان کلائمیٹ چینج کونسل اور پاکستان کلائمیٹ چینج فنڈ کو پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت حاصل کرنے اور موسمیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں معاونت کی ذمہ دار اتھارٹی اب تک 38 سے زائد منصوبہ جاتی تجاویز تیار کر چکی ہے، جن میں سے تین منصوبوں کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔مالی سال 26 ۔ 2025 کے دوران اتھارٹی اور کلائمیٹ فنڈ کے ادارہ جاتی انتظامات، آپریشنل قواعد اور طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی تاکہ عملدرآمد کی صلاحیت میں بہتری لائی جا سکے۔

پی سی سی اے اس وقت گرین کلائمیٹ فنڈ کے ساتھ پاکستان کے پہلے قومی ادارے کے طور پر ڈائریکٹ ایکسس ریڈینس سپورٹ حاصل کرنے کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے تعاون سے کام کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس معاونتی نظام کا مقصد ملک بھر میں موسمیاتی منصوبوں اور اقدامات کے درمیان رابطہ کاری، نگرانی، ڈیٹا مینجمنٹ اور رپورٹنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔رپورٹ میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے شعبے میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پاکستان کنمنگ-مونٹریال گلوبل بائیو ڈائیورسٹی فریم ورک کے مطابق اپنی قومی حیاتیاتی تنوع حکمت عملی اور ایکشن پلان پر نظرثانی کر رہا ہے، جبکہ ملک حیاتیاتی تنوع سے متعلق قومی دائرۂ اختیار سے باہر معاہدے کی بھی توثیق کر چکا ہے۔ملک بھر میں محفوظ قدرتی علاقوں کی تعداد بڑھ کر 476 ہو گئی ہے، جو پاکستان کے 20 فیصد سے زائد رقبے پر محیط ہیں۔ ان میں سمندری ماحولیاتی نظام بھی شامل ہیں، جو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی استحکام کے لیے بڑھتی ہوئی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ تمام اقدامات پاکستان کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد تعلیم، جدت، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے ذریعے موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنا اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے مقابلے میں ملک کی استعدادِ مزاحمت کو بہتر بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button