پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لئے 283 ارب روپے کا قومی پروگرام تیار

Spread the love

اسلام آباد۔22جون (اے بی سی ):حکومت نے آئندہ پانچ برسوں میں ایک محفوظ، خودمختار اور جدت پر مبنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لئے 283 ارب روپے کے پروگرام کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق نیشنل اے آئی ایکو سسٹم ڈویلپمنٹ پروگرام (NAIEDP) پر 2026 سے 2031 تک عملدرآمد کیا جائے گا۔ حکومت نے پروگرام پر کام کے آغاز کے لئے مالی سال 2026-27 میں 18 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ابتدائی رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پاکستان کے وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کا بنیادی ستون ثابت ہوگا اور ملک کو تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی مصنوعی ذہانت کی معیشت سے فائدہ اٹھانے میں مدد دے گا۔

پروگرام کے اہم مقاصد میں مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے اقتصادی تبدیلی اور ترقی کو فروغ دینا شامل ہے۔اس کے علاوہ پروگرام کے تحت اے آئی سٹارٹ اپس اور اختراعی منصوبوں کی معاونت کی جائے گی تاکہ مقامی ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کی ترقی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔مصنوعی ذہانت کے ذریعے مختلف شعبوں کی جدیدکاری بھی اس پروگرام کا ایک اہم جزو ہے، اس اقدام سے سرکاری خدمات، صنعت اور دیگر اقتصادی شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ ملے گا جس سے کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں بہتری متوقع ہے۔

دستاویزات میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لئے اے آئی گورننس اور اخلاقی فریم ورک کی تیاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت ایک سٹریٹجک فنڈنگ ونڈو قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ابھرتے ہوئے تکنیکی مواقع اور چیلنجز کا بروقت جواب دیا جا سکے۔2031 تک 283 ارب روپے کے مجموعی تخمینے کے ساتھ نیشنل اے آئی ایکو سسٹم ڈویلپمنٹ پروگرام پاکستان کی تکنیکی مسابقت بڑھانے اور طویل المدتی ڈیجیٹل ترقی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button