
لاہور۔25 فروری (اے بی سی):جلالپور آبپاشی منصوبہ جسے عام طور پر جلالپور کینال کہا جاتا ہے ،دسمبر 2027 تک مکمل ہونے والا ہے جس سے ضلع جہلم اور خوشاب کے 80 دیہات کے تقریباً 3 لاکھ 84 ہزار افراد مستفید ہوں گے، منصوبے کا مقصد دریائے جہلم سے پانی لے کر تحصیل پنڈ دادنخان اور خوشاب کی بنجر زمینوں کو سیراب کرنا ہے، دریائے جہلم کے دائیں کنارے واقع جلالپور کینال ایک غیر دائمی (موسمی) نہری نظام ہوگا ،جو اپریل سے اکتوبر تک فعال رہے گا، منصوبے میں ایک انٹیک سٹرکچر، 117 کلومیٹر طویل مرکزی نہر، 23 تقسیم کار نہریں (ڈسٹری بیوٹریز) اور 10 مائنر نہریں شامل ہیں جن کا مجموعی نیٹ ورک 210 کلومیٹر پر مشتمل ہوگا۔
اس کے علاوہ 485 کھالیں (واٹر کورسز) اور متعلقہ انفراسٹرکچر بھی تعمیر کیا جائے گا۔جلالپور آبپاشی منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر وحید اشرف نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہر کا پانی جہلم اور خوشاب کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ 74 ہزار ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کا سنگ بنیاد دسمبر 2019 میں رکھا گیا تھا اور فعال ہونے کے بعد خریف فصلوں کی شدت میں 50 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اس منصوبے کی مالی معاونت کر رہا ہے اور حکام کے مطابق اس سے علاقے میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔جلالپور کینال کا تصور 1898 میں پیش کیا گیا تھا۔ 1898 سے 1901 کے دوران رسول بیراج کی تعمیر کے وقت دائیں تقسیم دیوار میں مستقبل کی نہر کے لئے گنجائش رکھی گئی تھی۔ بعد ازاں 1967 میں سندھ طاس معاہدے کے تحت بیراج کی ازسرِنو تعمیر کے دوران بھی یہ گنجائش برقرار رکھی گئی۔لاہور-اسلام آباد موٹروے کی تعمیر کے دوران بھی منصوبہ بندی میں اس نہر کو شامل کیا گیا اور لِلہانٹرچینج کے قریب کراسنگ فراہم کی گئی۔
منصوبے کا ابتدائی فزیبلٹی اسٹڈی 1992-93 میں کیا گیا جسے 2010 میں اپ ڈیٹ کیا گیا۔ مارچ 2014 سے نومبر 2015 کے دوران نئی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی گئی جبکہ 2016 میں ٹوپوگرافک سروے مکمل کیا گیا۔ماہرینِ آب کا کہنا ہے کہ یہ نہر علاقے میں انقلابی تبدیلی لائے گی۔ آبپاشی کے لئے سطحی پانی کی فراہمی کے علاوہ اس سے زیرِ زمین پانی کے معیار میں بھی بہتری آئے گی جو اس وقت کوہِ نمک کے قریب ہونے کے باعث کھارا ہے۔
ایریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی آر آئی) پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے کہا کہ نہر کی بدولت پانی کی سطح بلند ہوگی اور علاقہ زرخیز بن جائے گا۔ ان کے مطابق نہری پانی زیرِ زمین آبی ذخائر کو ری چارج کرے گا اور موجودہ نمکین پانی کے مسئلے کو بہتر بنائے گا۔تحصیل پنڈ دادنخان جو کوہِ نمک اور دریائے جہلم کے درمیان واقع ہے، طویل عرصے سے سیم و تھور اور نمکین ریلوں کے مسائل کا شکار ہے جو نمک سے بھرپور پہاڑی علاقوں سے بہہ کر آتے ہیں۔
قدرتی نمکیات کی بلند مقدار نے ہزاروں ایکڑ زرعی زمین کو متاثر کیا ہے جبکہ مقامی آبادی کو زیرِ زمین کھارے پانی کے باعث پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق سطحی پانی کی دستیابی نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کرے گی بلکہ مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری لائے گی۔ بارشوں پر انحصار کرنے والے اس علاقے کو سیراب زرعی زون میں تبدیل کر کے جلالپور کینال خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔