ہنر مند نوجوان، روشن پاکستان: میدان کمپیوٹر اکیڈمی کمبڑ میں تبدیلی کی دستک

تحریر: اسماعیل انجم

Spread the love

تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں، بلکہ خود کو وقت کے جدید تقاضوں میں ڈھالنے کا فن ہے۔ اس حقیقت کی عملی تصویر حال ہی میں میدان کمپیوٹر اکیڈمی اینڈ ٹیکنیکل کالج کمبڑ میں دیکھنے کو ملی، جہاں ایک پروقار "ویلکم اینڈ فئیر ویل” پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب محض الوداعی کلمات یا استقبالیہ مسکراہٹوں تک محدود نہ تھی، بلکہ یہ اس عزم کی تجدید تھی کہ فنی تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو ملک کو معاشی بحرانوں سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر ڈال سکتا ہے۔

تقریب کی سب سے متاثر کن اور منفرد بات وہ درجن بھر نوجوان تھے جو ماضی میں اسی ادارے کی دہلیز سے ہنر سیکھ کر نکلے تھے۔ آج یہ نوجوان نہ صرف سمندر پار (بیرون ملک) باوقار ملازمتوں پر فائز ہیں، بلکہ کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے ملک کے اندر اپنے کامیاب کاروبار کی بنیاد رکھی۔
ان نوجوانوں نے جب اپنی داستانِ کامیابی (Success Stories) سنائیں تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا:سمندر پار پاکستانیوں کے مطابق فنی تعلیم نے نہ صرف ان نوجوانوں کو بیروزگاری کی دلدل سے نکال کر معاشی طور پر خودکفیل بنایا۔بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی ہنر مندوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو بھی ثابت کیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی لیفٹیننٹ کرنل ابرار نے اپنے خطاب میں اس نکتے پر زور دیا کہ موجودہ دور میں صرف ڈگری کا ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا:
> "ہمارے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید دنیا ‘کیا جانتے ہو’ سے زیادہ ‘کیا کر سکتے ہو’ پر یقین رکھتی ہے۔ فنی مہارت وہ ہتھیار ہے جس سے بیروزگاری کا خاتمہ ممکن ہے۔”
>
کالج کے ڈائریکٹر اخونزادہ حفیظ اللہ نے ادارے کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا مقصد محض اسناد تقسیم کرنا نہیں، بلکہ نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ ان کے فارغ التحصیل طلبہ آج دنیا بھر میں ادارے کا نام روشن کر رہے ہیں۔

تقریب میں ماہرینِ تعلیم اور علاقائی عمائدین نے بھرپور شرکت کی، جن میں محمد یار خان (صدر ترکلانی قوم)، محسن ملک، ابراہیم خان، سعید الرحمان، پروفیسر محمد شاہد اور جنید ظفر شامل تھے۔ مقررین نے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ
ٹیکنیکل کالج علاقے کی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میدان کمپیوٹر اکیڈمی جدید کمپیوٹر کورسز اور تکنیکی مہارتوں کی فراہمی میں پیش پیش ہے۔ ایسے اداروں کی وجہ سے مقامی نوجوانوں کو دور دراز شہروں کے بجائے اپنے قریب ہی عالمی معیار کا ہنر مل رہا ہے۔

کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے۔ یہ لمحات نئے آنے والے طلبہ کے لیے مہمیز ثابت ہوئے، جن کی آنکھوں میں اپنے سینئرز کی طرح کامیاب ہونے کے خواب سجے تھے۔

میدان کمپیوٹر اکیڈمی کمبڑ کی یہ تقریب ایک پیغام ہے کہ اگر نوجوانوں کو صحیح سمت اور درست ہنر فراہم کیا جائے، تو وہ نہ صرف اپنا بلکہ پورے ملک کا مقدر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button