
اسلام آباد-20 فروری (اے بی سی):حکومت نے وزیراعظم کی اسٹریٹجک ریفارمز انیشی ایٹو برائے خواتین کی نقل و حرکت’’ویمن آن وہیلز‘‘ کے تحت آئندہ تین برسوں میں ملک بھر کی خواتین کو 22 ہزار اسکوٹیز فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہےجس کی مجموعی لاگت 4 ارب 47 کروڑ 61 لاکھ 70 ہزار روپے ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب وزارتِ انسانی حقوق کے سرکاری دستاویزات کے مطابق، اس منصوبے کی منظوری سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 23 جون 2023 میں دی تھی۔ منصوبے کی مجموعی تخمینہ لاگت 4 ارب 476 ملین روپے ہے۔وزارتِ انسانی حقوق اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کو اس منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
کل لاگت میں سے 2 ارب 496 ملین روپے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت حکومت فراہم کرے گی جبکہ 1 ارب 980 ملین روپے ایک فنانسنگ پارٹنر بینک برداشت کرے گا جس کا انتخاب پراجیکٹ ٹیکنیکل کمیٹی کرے گی۔آئندہ تین برسوں کے لیے وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے تجویز کردہ فنڈنگ کے مطابق 2026-27 کے لیے 837.945 ملین روپے، 2027-28 کے لیے 1 ارب 828.362 ملین روپے اور 2028-29 کے لیے 829.863 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس منصوبے کا مقصد خواتین کو درپیش سفری مسائل کا حل نکال کر ان کی نقل و حرکت کو بہتر بنانا ہے، جو اکثر انہیں معاشی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت سے روکتے ہیں۔ آزادانہ سفری سہولت کی فراہمی کے ذریعے خواتین کی افرادی قوت اور عوامی زندگی کے دیگر شعبوں میں شمولیت بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔پی ایس ڈی پی دستاویزات میں وزارت کی جانب سے دیگر مجوزہ منصوبوں میں اسلام آباد میں 1 ارب 445 ملین روپے کی لاگت سے ہیومن رائٹس کمپلیکس کی تعمیر بھی شامل ہے۔
اس منصوبے کے تحت نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن رائٹس کو ایک ہی مقصد کے تحت تعمیر کردہ عمارت میں منتقل کیا جائے گا تاکہ باہمی رابطے اور خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ایک اور اہم تجویز اسلام آباد میں سینیئر سٹیزن ہوم اور چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر ہے جس کی مجموعی لاگت 1 ارب 609 ملین روپے ہے۔
منصوبے میں 465.622 ملین روپے کی لاگت سے سینئر سٹیزن ہوم (دارالشفقت) کی تعمیر اور سیکٹر ایچ-11/4 میں 1 ارب 144 ملین روپے کی لاگت سے چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔یہ اقدامات آئی سی ٹی میں بچوں کے تحفظ اور بزرگ شہریوں کی فلاح سے متعلق قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں اور ادارہ جاتی نگہداشت کی سہولیات میں موجود دیرینہ خلا کو پُر کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔
وزارت نے انسانی حقوق اور خواتین کی ترقی سے متعلق 2 ارب 87 کروڑ روپے کے مزید منصوبے بھی تجویز کیے ہیں۔ان میں 1 ارب 500 ملین روپے کی لاگت سے فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن رائٹس کی تعمیر شامل ہے، جسے انسانی حقوق کے امور پر تعلیم، تحقیق، تربیت اور بین الاقوامی روابط کے مرکز کے طور پر قائم کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ 800 ملین روپے کی لاگت سے جینڈر ایکویلیٹی اینڈ ویمن امپاورمنٹ پروگرام اور آئی سی ٹی، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 570 ملین روپے کی لاگت سے ڈے کیئر سینٹرز کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس کا مقصد کام کرنے والی خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت کو فروغ دینا ہے۔