
اسلام آباد۔17فروری (اے بی سی):پاکستان میں زیتون کے شعبے میں 100 سے زائد ادارے کام کر رہے ہیں جو شجرکاری کے تیزی سے پھیلاؤ، نجی شعبے کی بڑھتی شمولیت اور ملکی و عالمی سطح پر بڑھتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ اولیو پروموشنل پروگرام اِن پاکستان کے قومی پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد طارق نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی سرپرستی کے تحت زیتون پالیسی کابینہ کی منظوری کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح پائیداری کے لیے روڈ میپ تشکیل پا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے آغاز پر صرف ایک یا دو ادارے موجود تھے جبکہ آج ان کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے جو مارکیٹنگ، پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور متعلقہ خدمات میں شعبے کی تیزی سے ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زیتون ایک اعلیٰ قدر کی حامل فصل ہے جس میں بے پناہ امکانات موجود ہیں اور آئندہ عرصے میں ان امکانات کو بروئے کار لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زیتون کا شعبہ ابھر رہا ہے اور زرعی تنوع کے لیے بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے۔قومی زیتون پروگرام کا دائرہ کار کاشت، پراسیسنگ، برانڈنگ، پیکیجنگ، سرٹیفیکیشن اور برآمدات تک پھیلا ہوا ہے جس سے نہ صرف کاشتکاری بلکہ کنسلٹنسی، نرسریوں، پراسیسنگ، مارکیٹنگ اور برانڈنگ میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں برآمدات اور تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ہنر مند افرادی قوت اور تکنیکی مہارت کی کمی بھی تربیت اور خصوصی خدمات میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔محمد طارق نے کہا کہ پاکستان کی بڑی اور کم لاگت لیبر فورس اسے روایتی زیتون پیدا کرنے والے ممالک کے مقابلے میں مسابقتی برتری فراہم کرتی ہے، جہاں افرادی قوت کی کمی اور زیادہ پیداواری لاگت بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شہری علاقوں میں زیتون مصنوعات کی بڑھتی کھپت بھی اس شعبے کی ترقی کا اہم محرک ہے،اگرچہ کچھ چیلنجز موجود ہیں جن میں درآمدی مشینری پر انحصار اور کاروباری مشاورتی خدمات کی کمی شامل ہے، تاہم زیتون کے پتے، پھل اور زیتون کی کھل (پومیس) کی پراسیسنگ جیسے غیر استعمال شدہ شعبے مزید توسیع کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیتون کی درآمدات میں کمی جبکہ برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہےجو اس شعبے کی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت سے متعلق شعور میں عالمی سطح پر اضافے کے باعث آئندہ برسوں میں زیتون کے تیل کی عالمی تجارت میں نمایاں وسعت متوقع ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں زیتون سمیت متعدد اعلیٰ قدر کی فصلوں کی 19 زیادہ پیداوار دینے والی، بیماریوں کے خلاف مزاحم اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ اقسام تیار کی گئی ہیں۔ طارق نے کہا کہ پاکستان میں زیتون ایک امید افزا اور پُرکشش شعبہ ہے،مسلسل حکومتی تعاون سے یہ شعبہ عالمی تجارت میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے اور نمایاں منافع کما سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ زیتون کی ترقی مرحلہ وار جاری ہے، ہر سال شجرکاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف صوبوں اور علاقوں میں مختلف استعداد کے تیل نکالنے کے یونٹس نصب کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے صرف کاشت تک محدود رہنے کے بجائے مکمل ویلیو چین کی ترقی پر توجہ دی ہےجس میں ویلیو ایڈیشن لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں جہاں پھل کی پراسیسنگ، گٹھلی نکالنے، درجہ بندی اور سلائسنگ کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہےجبکہ پراسیسنگ پلانٹس نجی شعبے کو میچنگ گرانٹ کی بنیاد پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔نرسری ٹنلز کے قیام سے اٹلی، اسپین، ترکیہ اور تیونس جیسے ممالک سے پودوں کی درآمد پر انحصار کم ہوا ہے۔ اب نجی شعبہ مقامی سطح پر تصدیق شدہ زیتون کے پودے تیار کر رہا ہے جبکہ زیتون کے تیل کے معیار کی جانچ کے لیے ریفرنس لیبارٹری بھی قائم کی گئی ہے۔
طارق نے کہا کہ یہ پروگرام معیشت، خصوصاً دیہی معیشت کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنجر زمینوں کے وسیع رقبے کو قابلِ کاشت بنایا گیا ہےجس سے زمین کی تنزلی اور صحرا زدگی میں کمی آئی ہے۔انہوں نے پوٹھوہار ریجن، بشمول راولپنڈی، اٹک اور جہلم میں نمایاں پیش رفت کا ذکر کیا، جہاں پہلے زیتون کی کاشت نہیں ہوتی تھی۔ شجرکاری کے پھیلاؤ سے مون سون کے دوران مٹی کے کٹاؤ اور زیریں علاقوں میں گاد جمع ہونے میں کمی آئی ہے جبکہ دیہی روزگار اور موسمیاتی لچک میں بھی اضافہ ہوا ہے۔