
رپورٹ: اسماعیل انجم!
تیمرگرہ: دیر لوئر کے مرکز تیمرگرہ میں علم و ہنر کی ایک ایسی محفل سجی جس نے نہ صرف طالبات کے مستقبل کو روشن کیا بلکہ علاقے میں شعبہ نرسنگ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ مسرت شوکت کالج آف نرسنگ میں منعقدہ "کانووکیشن” یا تقریبِ تقسیمِ اسناد ایک ایسا سنگ میل ثابت ہوئی جہاں سے باصلاحیت نرسز کا ایک نیا دستہ عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھنے کے لیے تیار پایا گیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد ہال تالیوں کی گونج سے بھر گیا جب فارغ التحصیل طالبات نے اپنی اسناد وصول کیں۔ اس پروقار تقریب میں کالج انتظامیہ، فیکلٹی ممبران کے ساتھ ساتھ سماجی و سیاسی شخصیات اور والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن کے چہروں پر اپنے بچوں کی کامیابی پر فخر کی جھلک نمایاں تھی۔
کالج کے چیف ایگزیکٹیو اور سابق ڈی جی ہیلتھ خیبرپختونخوا ڈاکٹر شوکت علی نے اپنے کلیدی خطاب میں نرسنگ کے پیشے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:
> "نرسنگ صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ یہ انسانیت کی خدمت کا وہ مقدس راستہ ہے جو مریض اور شفا کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ صحت کے نظام میں ڈاکٹر تشخیص کرتا ہے، لیکن نرس کی دیکھ بھال ہی مریض کی بحالی میں اصل کردار ادا کرتی ہے۔”
>
انہوں نے مزید زور دیا کہ جدید دور کے طبی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مسرت شوکت کالج معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا تاکہ صوبے کو عالمی معیار کی تربیت یافتہ نرسز فراہم کی جا سکیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل محمد نعیم، سابق وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ، اور ممتاز سماجی و کاروباری شخصیات بشمول بشیر خان، باچا احد ایڈووکیٹ اور دیگر نے کالج کی کارکردگی کو سراہا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں میں نرسنگ جیسے شعبے میں خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا نہ صرف بے روزگاری کا خاتمہ ہے بلکہ یہ معاشرے کے کمزور طبقات کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ضمانت بھی ہے۔
تقریب کا سب سے جذباتی اور اہم لمحہ وہ تھا جب نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات میں اسناد اور اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ والدین نے اپنی بیٹیوں کو اسناد وصول کرتے دیکھ کر خوشی کے آنسوؤں اور دعاؤں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر شوکت علی نے اساتذہ کی انتھک محنت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی اصل پہچان اس کے اساتذہ کا اخلاص اور معیارِ تدریس ہے۔
تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، خوشحالی اور ادارے کی مزید ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ یہ تقریب اس عہد کے ساتھ ختم ہوئی کہ یہ طالبات عملی میدان میں جا کر نہ صرف اپنے ادارے بلکہ اپنے ملک و قوم کا نام روشن کریں گی۔
مسرت شوکت کالج آف نرسنگ کی یہ تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف اور ارادے بلند ہوں تو دور افتادہ علاقوں میں بھی معیاری تعلیم کے چراغ روشن کیے جا سکتے ہیں۔ اب گیند ان فارغ التحصیل طالبات کے دستِ شفا میں ہے کہ وہ کس طرح انسانیت کی خدمت کر کے اسناد کا حق ادا کرتی ہیں۔