
تحریر: (اسماعیل انجم)
وادیِ دیر، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور بہادر عوام کی وجہ سے جانی جاتی ہے، اب کھیلوں کے میدان میں بھی اپنی دھاک بٹھا رہی ہے۔ لوئر دیر کی مٹی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اگر عزم بلند ہو اور محنت کو شعار بنا لیا جائے، تو پہاڑوں کی اوٹ سے نکل کر قومی افق پر چمکنا ناممکن نہیں۔ تازہ ترین مثال پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے باصلاحیت فاسٹ بولر محمد صیام ہیں، جن کے اعزاز میں گزشتہ دنوں تیمرگرہ کی فضاؤں میں جشن کا سماں رہا۔
تیمرگرہ کی اسرار کرکٹ اکیڈمی میں جب محمد صیام داخل ہوئے، تو منظر دیدنی تھا۔ نعروں کی گونج میں ، نوجوانوں کا جوش اور فضا میں اڑتی گلاب کی پتیاں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ لوئر دیر نے اپنے ہیرو کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا ہے۔ اس گرینڈ ویلکم پارٹی میں صرف کھلاڑی ہی نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ، سماجی شخصیات اور کرکٹ کے دیوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے یہ ثابت کیا کہ ٹیلنٹ کی قدر دان آج بھی زندہ ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور پشاور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر گل زادہ نے اپنے خطاب میں صیام کی کامیابی کو ایک سنگِ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:
> "محمد صیام نے اپنی محنت اور ڈسپلن سے ثابت کیا کہ پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں میں بھی وہ چنگاری موجود ہے جو عالمی کرکٹ کے میدانوں کو روشن کر سکتی ہے۔”
>
ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر آفتاب علی اور جنرل سیکرٹری مسلم خان نے مقامی کرکٹ اکیڈمیوں اور ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کے کردار کو سراہا، جو نچلی سطح پر خام مال کو تراش کر ہیرا بنانے میں مصروف ہے۔ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تیمرگرہ جانباز نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کھیلوں کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، جو کہ نوجوانوں کے لیے ایک خوش آئند پیغام ہے۔
اس پوری تقریب کا مرکز محمد صیام، جو اپنی کامیابی پر عاجز نظر آئے۔ جب وہ مائیک پر آئے تو ان کی آواز میں عزم اور آنکھوں میں بڑے خواب تھے۔ انہوں نے اپنی اس کامیابی کا سہرا اپنے والدین کی دعاؤں اور کوچز کی دن رات کی محنت کے سر باندھا۔ صیام کا کہنا تھا:
> "یہ تو ابھی شروعات ہے۔ میرا اصل ہدف پاکستان کی سینئر ٹیم کی نمائندگی کرنا اور سبز ہلالی پرچم کو بلندیوں پر لہرانا ہے۔
تقریب کے اختتام پر صیام کو شیلڈز اور سووینئر پیش کیے گئے، لیکن ان سے بھی قیمتی وہ دعائیں تھیں جو علاقے کے بزرگوں اور نوجوانوں نے انہیں دیں۔
یہ فیچر رپورٹ صرف ایک استقبالیہ کی کہانی نہیں، بلکہ ہر اس نوجوان کے لیے تحریک ہے جو وسائل کی کمی کا رونا روتا ہے۔ محمد صیام نے ثابت کر دیا کہ تیمرگرہ کی گلیوں سے قذافی اسٹیڈیم تک کا سفر مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور کرکٹ بورڈ لوئر دیر جیسے علاقوں میں انفراسٹرکچر پر توجہ دیں تاکہ صیام جیسے مزید کئی ستارے ملکی کرکٹ کا نام روشن کر سکیں۔