بیجوں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے خصوصی سیکریٹریٹ قائم

Spread the love

اسلام آباد۔8فروری (اے پی پی):وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے پیسٹ رسک اینالیسس، بیجوں کی جانچ اور منظوری کے عمل کو آسان اور تیز کر دیا ہے تاکہ معیاری بیجوں کی بروقت دستیابی یقینی بنائی جا سکے جبکہ سخت ریگولیٹری نگرانی بھی برقرار رکھی جائے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے ورائٹی ایویلیوایشن کمیٹی (وی ای سی) کی تشکیلِ نو کی ہے اور منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ایک مخصوص ورائٹی ایویلیوایشن کمیٹی سیکریٹریٹ قائم کیا ہے۔

مزید برآں شفافیت بڑھانے اور تاخیر کم کرنے کے لیے کمیٹی کے امور کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی جنس یا فصل کے لیے پیسٹ رسک اینالیسس مکمل کرنے کا وقت بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ برآمد کنندہ ممالک کتنی جلد مکمل تکنیکی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس تجزیاتی عمل میں کیڑوں کی حیاتیات، ماحولیات، میزبان فصلوں کی حد، اور ملکِ مبدا میں اختیار کردہ حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ ممکنہ معاشی اور ماحولیاتی اثرات کو بھی مدِنظر رکھا جاتا ہے۔

دستاویزات کے مطابق پودوں اور نباتاتی مواد کی درآمدات کو پلانٹ کوارنٹین رولز (پی کیو آر) 2019 اور انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن کے رہنما اصولوں کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔ تجارتی اور تحقیقی دونوں مقاصد کے لیے درآمد کی اجازت ہے، تاہم تجارتی کھیپ کے لیے پی کیو آر 2019 کے رول 10 کے تحت پیسٹ رسک اینالیسس لازمی ہے۔

یہ تجزیہ ایک سائنسی عمل ہے جس کا مقصد قرنطینہ شدہ کیڑوں کے داخلے کو روکنا اور غیر قرنطینہ لیکن ضابطہ شدہ کیڑوں کے پھیلاؤ کو محدود کرنا ہے۔دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیسٹ رسک اینالیسس کی تکمیل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور بعض اوقات فصل، جنس اور برآمد کنندہ ملک کے لحاظ سے ایک سے دو سال تک بھی لگ سکتے ہیں۔ تاہم مارکیٹ تک رسائی ملنے کے بعد، اگر تمام دستاویزات مکمل ہوں اور معائنے میں سامان کیڑوں سے پاک قرار پائے، تو پی کیو آر 2019 کے رول 45 اور 46 کے مطابق کھیپ کو ایک سے دو ورکنگ دنوں میں جاری کر دیا جاتا ہے۔

تحقیقی مقاصد کے لیے نباتاتی مواد کی درآمد پی کیو آر 2019 کے رول 3 کے تحت منظم کی جاتی ہے۔ درآمد کنندگان کے پاس پوسٹ انٹری کوارنٹین سہولت ہونا لازمی ہے تاکہ بیج بونے یا اگانے کے دوران کیڑوں کے داخلے کو روکا جا سکے اور مقررہ شرائط پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔اگر پوسٹ انٹری کوارنٹین کا درست لائسنس موجود ہو اور تمام شرائط پوری کی جائیں تو درآمدی درخواستیں فیس کی ادائیگی کے بعد اسی دن نمٹا دی جاتی ہیں۔ اسی طرح، معائنے میں قواعد کی پاسداری ثابت ہونے پر سامان کی رہائی بھی اسی دن ممکن ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button