
لاہور۔4فروری (اے پی پی):حکومت پنجاب صوبے میں مزید تین ماڈل مویشی منڈیاں قائم کر رہی ہے تاکہ لائیو سٹاک پالنے والے کاشتکاروں کو جانوروں کی پرورش کے عوض منصفانہ معاوضہ مل سکے۔پنجاب کیٹل مارکیٹس مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (پی سی ایم ایم ڈی سی ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلال ہاشم نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھکر، محمد پور اور چوک اعظم میں نئی ماڈل مویشی منڈیاں قائم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان نئی منڈیوں کے قیام سے صوبے میں ماڈل مویشی منڈیوں کی مجموعی تعداد پانچ ہو جائے گی جبکہ لاہور اور جھنگ میں پہلے ہی ایسی منڈیاں فعال ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تکمیل کے بعد یہ منڈیاں صوبے کے دور دراز علاقوں کے ہزاروں کسانوں کی ضروریات پوری کریں گی۔بلال ہاشم کے مطابق ماڈل مویشی منڈیاں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کی جا رہی ہیں اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی سے جانوروں کو بچانے کے لئے ٹینسائل شیڈز نصب کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ لاہور کی شاہ پور کانجراں مویشی منڈی میں 50 ہزار گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش والا واٹر بیڈ ٹینک بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ شاہ پور کانجراں کو پاکستان کی سب سے بڑی جدید مویشی منڈی سمجھا جاتا ہے جہاں 25 ہزار بڑے اور ڈیڑھ لاکھ چھوٹے جانور رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے بھر کی تمام مویشی منڈیوں کے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کی جا رہی ہیں جبکہ تمام ماڈل منڈیوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جا رہے ہیں تاکہ کسانوں کو محفوظ اور آرام دہ ماحول میں خرید و فروخت کی سہولت میسر آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور اور جھنگ کی ماڈل منڈیوں میں نیلامی کے لئے خصوصی رنگز بھی بنائے گئے ہیں تاکہ تاجر اپنے جانور بہتر انداز میں پیش کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ تمام منڈیوں میں واش رومز، کشادہ پارکنگ ایریاز، لوڈنگ اور اَن لوڈنگ پوائنٹس، ویٹرنری کلینکس اور بینکاری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
بلال ہاشم نے کہا کہ پی سی ایم ایم ڈی سی تقریباً ایک دہائی قبل صوبے میں مویشی منڈیوں کے قیام، تنظیم، انتظام اور ریگولیشن کے مقصد سے قائم کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی اس وقت پنجاب کے تمام 41 اضلاع میں 113 مویشی منڈیاں چلا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی نے ایک ای-کیٹل مارکیٹ ایپ بھی متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے لوگ گھر بیٹھے جانوروں کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔
گزشتہ عیدالاضحیٰ کے دوران، جو مویشیوں کی تجارت کا عروج کا موسم ہوتا ہے، اس ایپ نے مؤثر کارکردگی دکھائی۔قومی زرعی مردم شماری 2024 کے مطابق پاکستان میں مویشیوں کی تعداد 25 کروڑ 13 لاکھ ہے جس میں پنجاب کا سب سے بڑا حصہ 10 کروڑ 42 لاکھ جانوروں پر مشتمل ہے۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق ڈین پروفیسر ارشاد محمد خان نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 70 فیصد مویشی چھوٹے کسان پالتے ہیں جن کے پاس دو سے تین جانور ہوتے ہیں اور وہ مہینوں بلکہ برسوں کی محنت کے بعد بہتر قیمت کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید سہولیات سے آراستہ مویشی منڈیاں ان کسانوں کو ضرورت کے وقت اپنے جانور مناسب قیمت پر فروخت کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کارپوریٹ اور درمیانے درجے کے فارمز کو مارکیٹنگ کے کم مسائل کا سامنا ہوتا ہے تاہم حکومت کو چھوٹے مویشی پال کسانوں کے لئے بہتر مارکیٹنگ نظام متعارف کرانا چاہئے کیونکہ انہیں اکثر مناسب قیمت کے حصول کے لئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔