
اسلام آباد۔3 فروری (اے پی پی):پاکستان کی تیزی سے ابھرتی ہوئی زیتون کے تیل کی صنعت چینی شراکت داروں کو متوجہ کرنے کے لئے کوششیں تیز کر رہی ہےجہاں مقامی صنعتکار بڑے پیمانے پر مشترکہ منصوبوں کی تجاویز پیش کر رہے ہیں جو روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور دنیا کی بڑی غذائی منڈیوں میں سے ایک تک نئی برآمدی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر ایوارڈ یافتہ برانڈ لورالائی اولیوز کے بانی شوکت رسول نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ان کی کمپنی چینی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کے لئے حتمی مرحلے کی بات چیت میں ہے کیونکہ اسلام آباد اور بیجنگ اعلیٰ قدر کی زرعی کاروباری سرگرمیوں میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس ایک بہترین موقع تھا، ہم 3,000 ایکڑ پر مشتمل تین کارپوریٹ زیتون سٹیٹس کی تجویز دے رہے ہیں جن میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 2 کروڑ ڈالر ہو گی۔ان کے مطابق یہ منصوبے 3,000 سے زائد براہِ راست ملازمتیں پیدا کریں گے اور چھ سے سات برس میں سالانہ ایک کروڑ 80 لاکھ سے 2 کروڑ ڈالر مالیت کا زیتون کا تیل پیدا کریں گے جس سے پاکستان عالمی منڈی میں ایک مسابقتی نئے سپلائر کے طور پر ابھر سکے گا۔شوکت رسول نے کہا کہ چین پاکستان کے زیتون کے لئے ایک قدرتی شراکت دار ہے کیونکہ چین بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور وہاں صحت کے حوالے سے شعور رکھنے والا متوسط طبقہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین ہر سال 30 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کا زیتون کا تیل درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیتون کا تیل صحت مند زندگی کے لئے دوا کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جہاں لوگ صحت اور وزن کے بارے میں پہلے سے زیادہ آگاہ ہو رہے ہیں اور پاکستان ان کی زیتون کے تیل کی طلب پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو واضح تجارتی فوائد فراہم کرتا ہے جن میں کم لاگت زمین اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے تحت ترقی یافتہ لاجسٹکس انفراسٹرکچر شامل ہے، یہ چینی کمپنیوں کے لئے یہاں سرمایہ کاری کا ایک مثالی اور دو طرفہ فائدہ مند موقع ہے، لورالائی اولیوز کی سپلائی چین پہلے ہی چین سے منسلک ہے۔
شوکت رسول کے مطابق کمپنی کی تمام پیکجنگ اور بوتلنگ کا سامان چین سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ مستقبل میں تعاون زیتون کا تیل نکالنے کی مشینری، بوتلنگ پلانٹس اور کٹائی کے آلات تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔پاکستان کے زیتون کے تیل نے عالمی سطح پر بھی پہچان حاصل کی ہے۔ لورالائی اولیوز نے گزشتہ سال نیویارک انٹرنیشنل اولیوز آئل کمپیٹیشن (این وائی آئی او او سی) میں چاندی کا تمغہ جیت کر عالمی توجہ حاصل کی جہاں اس نے روایتی زیتون پیدا کرنے والے ممالک کے 1,200 سے زائد برانڈز کو پیچھے چھوڑ دیا۔این وائی آئی او او سی دنیا کا سب سے بڑا اور باوقار ایکسٹرا ورجن زیتون کے تیل کا مقابلہ ہے جہاں معیار، ذائقے، خوشبو اور مجموعی عمدگی کی بنیاد پر ایوارڈ دیئے جاتے ہیں۔
شوکت رسول نے کہا کہ کمپنی اس سال بھی بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔اگرچہ برآمدات تاحال محدود ہیں اور زیادہ تر خلیجی منڈیوں تک ہیں، تاہم ملکی سطح پر طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اس وقت سالانہ ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا زیتون کا تیل درآمد کرتا ہے لیکن بین الاقوامی اعزازات اور صحت کے فوائد سے متعلق بڑھتی ہوئی آگاہی کے باعث صارفین مقامی برانڈز کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔صنعتی سرگرمیوں میں بھی وسعت آ رہی ہے۔ شوکت رسول کے مطابق کاشت، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں 80 سے زائد زیتون سے متعلق سٹارٹ اپس سامنے آ چکے ہیں، جو سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور طویل المدتی امکانات کی عکاسی کرتے ہیں۔
زیتون کی کاشت پاکستان کے بڑے حصے میں ممکن ہے، بالخصوص بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب و سندھ کے بعض علاقوں میں، جن میں چولستان اور جنوبی پنجاب جیسے خشک خطے بھی شامل ہیں۔شوکت رسول نے کہا کہ زیتون ایک مکمل ویلیو چین ہے۔ یہ صرف تیل نہیں، بلکہ اس سے چائے، کاسمیٹکس، ادویات اور کئی دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی تیار کی جا سکتی ہیں،ان کے لئے عالمی سطح پر پذیرائی ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم نے آغاز کیا تو درآمدی زیتون کے تیل کا مارکیٹ پر غلبہ تھا اور کوئی ہماری مصنوعات خریدنے کو تیار نہیں تھا، اس لئے ہم نے فیصلہ کیا کہ عالمی سطح پر پہچان حاصل کرنا ضروری ہے۔ جب پاکستان نے ایک بین الاقوامی مقابلے میں تاریخ رقم کی تو نہ صرف حکومت بلکہ عام پاکستانیوں نے بھی اپنے زیتون کے تیل پر فخر محسوس کیا۔چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی کے ساتھ پاکستان کا زیتون سیکٹر پاکستان اور چین کے اقتصادی تعاون کا ایک نیا ستون بننے کی جانب بڑھ رہا ہے جو زراعت، صحت اور تجارت کو یکجا کر کے ایک تیز رفتار شراکت داری کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔