ڈیجیٹل مویشی نگرانی سے پنجاب میں بیماریوں پر قابو پانے میں بہتری کی توقع

Spread the love

اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):حکام اور ماہرین کے مطابق پنجاب میں متعارف کرایا گیا نیا ڈیجیٹل مویشی نگرانی نظام بیماریوں پر قابو پانے اور جانوروں کی صحت کی دیکھ بھال بہتر بنانے میں مدد دے گا کیونکہ اس کے ذریعے ویٹرنری خدمات کی ریئل ٹائم نگرانی ممکن ہو سکے گی۔پنجاب حکومت کی منظوری سے شروع کئے گئے اس اقدام کے تحت محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کی خدمات کو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تیار کردہ ایک متحدہ ڈیجیٹل فریم ورک میں ضم کیا گیا ہے۔

یہ نظام فیلڈ آپریشنز کو ’’لائیو اسٹاک کنیکٹ‘‘ پلیٹ فارم سے جوڑتا ہے جس کے ذریعے موبائل ویٹرنری یونٹس، عملے کی کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کی کڑی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر ایاز نے کہا کہ ڈیجیٹل رابطہ کسانوں کو بروقت ویکسینیشن، علاج اور مشاورتی خدمات کی فراہمی میں مدد دے گا خصوصاً دور دراز اور سرحدی علاقوں میں جہاں سرحد پار جانوروں کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔اس نظام کے ذریعے کسان رئیل ٹائم میں ویکسین اور علاج تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور موسمی و جانوروں کی صحت سے متعلق درست رہنمائی بھی ملے گی۔

انہوں نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام احتساب کو بھی مضبوط بنائے گا، کیونکہ کسان ویکسینیشن میں کوتاہی یا عملے کی غیر حاضری کی اطلاع دے سکیں گے۔پروفیسر مظہر نے بتایا کہ اٹک، ڈی جی خان، کوہِ سلیمان، بھکر اور رحیم یار خان سمیت سرحدی اضلاع کی زیادہ مؤثر نگرانی کی جائے گی جس سے لمپی سکن ڈیزیز، منہ کھر کی بیماری اور پیسٹ ڈیس پیٹس رمیننٹس (پی پی آر) جیسی سرحد پار منتقل ہونے والی بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی جو خاص طور پر بھیڑ اور بکریوں کو متاثر کرتی ہیں۔یہ بیماریاں عموماً سرحدی علاقوں سے داخل ہوتی ہیں۔ ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے انہیں کہیں بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام پنجاب کو بیماریوں سے پاک خطہ بنانے کے ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ چولستان یونیورسٹی اس پروگرام میں تعاون کے لئے تیار ہے اور اسے مویشیوں کی صحت کی دیکھ بھال کو جدید بنانے اور کسانوں کی خدمات کو مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کے ساتھ ساتھ صوبائی کابینہ نے ویٹرنری اسسٹنٹس اور مصنوعی بارآوری کے تکنیکی عملے کے لیے 4,000 روپے ماہانہ سفری الاؤنس کی بھی منظوری دی ہے۔

پروفیسر مظہر کے مطابق یہ ایک طویل عرصے سے زیرِ التوا اصلاح تھی۔اس اقدام سے ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے ہوں گے، فیلڈ میں نقل و حرکت بہتر ہوگی اور عملہ اپنی ذمہ داریوں پر زیادہ توجہ دے سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشترکہ اقدامات سے پنجاب بھر میں بیماریوں پر قابو پانے، خدمات کی فراہمی بہتر بنانے اور لاکھوں مویشی پال کسانوں کو سہارا دینے کی توقع ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25 میں پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے نے 4.72 فیصد ترقی کی جس سے زرعی معیشت کے سب سے مستحکم اور مضبوط جزو کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہوا۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ برسوں کے دوران لائیو سٹاک شعبہ مسلسل مثبت نمو دکھا رہا ہے جو مالی سال 20 میں 2.80 فیصد، مالی سال 21 میں 2.38 فیصد، مالی سال 22 میں 2.25 فیصد رہی، مالی سال 23 میں بڑھ کر 3.70 فیصد ہو گئی جبکہ مالی سال 24 میں 4.38 فیصد اور مالی سال 25 میں 4.72 فیصد تک پہنچ گئی۔ پروفیسر مظہر ایاز کے مطابق اس مسلسل بہتری کی بنیادی وجوہات میں دودھ اور گوشت کی بڑھتی ہوئی مقامی طلب، بہتر فارم مینجمنٹ طریقے اور افزائشِ نسل و جانوروں کی صحت کی خدمات کا بتدریج فروغ شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مثبت رجحان میں چھوٹے کاشتکاروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت بھی اہم ہے جن کے لئے مویشی آمدن اور مالی استحکام کا اہم ذریعہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل دو برس سے چار فیصد سے زائد نمو کے ساتھ چارے کی ترقی، بیماریوں پر قابو، ویلیو ایڈڈ پراسیسنگ اور مارکیٹ روابط میں ہدفی سرمایہ کاری دیہی روزگار، قومی معیشت، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں لائیو اسٹاک شعبے کے کردار کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button