
اسلام آباد۔17 مارچ (اے بی سی):حکومت پاکستان زرعی تحقیق کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا منصوبہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت مقامی فصلوں کے ریفرنس جینوم تیار کیے جائیں گے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز کے ذریعے بہتر اقسام کی تیاری کے عمل کو تیز کیا جائے گا،اس منصوبے سے زرعی پیداوار میں اضافہ، برآمدی مسابقت میں بہتری اور خصوصاً پسماندہ اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے کم وسائل رکھنے والے کسانوں کے لیے بہتر معاشی مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ’’مقامی فصلوں کی بہتری کے لیے ریفرنس جینوم کی تیاری اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز کا استعمال‘‘ کے عنوان سے ایک منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔ چار سالہ یہ منصوبہ جولائی 2026 سے جون 2030 تک جاری رہے گا اور اسے اسلام آباد میں واقع قومی زرعی تحقیقاتی مرکز نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر ( این اے آر سی) میں تقریباً 786.816 ملین روپے کی لاگت سے نافذ کیا جائے گا۔ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) اس منصوبے کو قومی ادارہ برائے جینومکس و جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جینومکس اینڈ ایڈوانسڈ بائیوٹیکنالوج( این آئی جی اے بی) کے ذریعے نافذ کرے گی۔
دستاویز کے مطابق اس اقدام سے نئی فصلوں کی اقسام تیار کرنے کے لیے درکار وقت میں نمایاں کمی آئے گی جبکہ جدید بریڈنگ اور زرعی بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان کی صلاحیت بھی مضبوط ہوگی۔اس منصوبے کے نتیجے میں 10 اعلیٰ درجے کی فصلوں کی اقسام متعارف کرانے کی توقع ہے جن میں مزاحمتی نشاستہ رکھنے والی چاول اور گندم، کم از کم 13.3 فیصد شوگر ریکوری والی گنا کی قسم اور جھڑنے سے محفوظ کینولا شامل ہیں۔منصوبے کے تحت این آئی جے اے بی میں موجود جدید جینومکس، بایوٹیکنالوجی، ذہین گلاس ہاؤس اور سپیڈ بریڈنگ کی سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی 17 اہم فصلوں کی 62 مقامی اقسام کے لیے اعلیٰ معیار کے ریفرنس جینوم سیکوینس تیار کیے جائیں گے۔
یہ جینومک وسائل زرعی شعبے میں جدید اطلاقی تحقیق کی بنیاد فراہم کریں گے، جن میں مصنوعی ذہانت سے مربوط جینومک سلیکشن اور اسپیڈ بریڈنگ نظام کے ساتھ 10 کم لاگت ڈی این اے–ایس این پی جینو ٹائپنگ پلیٹ فارمز کی تیاری شامل ہے۔منصوبے کا ایک اہم جزو 30K ایس این پی جینو ٹائپنگ پلیٹ فارمز یا ڈی این اے چپس کی تیاری بھی ہے، جنہیں مصنوعی ذہانت پر مبنی جینومک سلیکشن اور اسپیڈ بریڈنگ کے نظام میں شامل کیا جائے گا۔اس کے علاوہ منصوبے کے تحت 848 فصلوں کی اقسام کے ڈی این اے فنگر پرنٹس تیار کرکے ایک قومی ڈی این اے فنگر پرنٹنگ ریپوزٹری قائم کی جائے گی، جو پودوں کے بریڈرز کے حقوق، اقسام کی تصدیق اور فصلوں کی ٹریس ایبلٹی کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔
مزید برآں، اس اقدام کے ذریعے پاکستان میں نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ ایس این پی جینو ٹائپنگ اور بایو انفارمیٹکس خدمات کو تجارتی بنیادوں پر متعارف کرانے کا بھی ہدف رکھا گیا ہے تاکہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے بریڈنگ پروگراموں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔دستاویز کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان وژن 2026 اور اڑان پاکستان فریم ورک کے تحت 13ویں پانچ سالہ منصوبے کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ یہ خوراک کے تحفظ، بایوٹیکنالوجی اور موسمیاتی مزاحمت سے متعلق قومی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کی بھی حمایت کرتا ہے