سی بی ڈی پنجاب بڑے شہروں میں مرکزی کاروباری اضلاع قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے،عمران امین

Spread the love
لاہور ۔28اپریل (ای بی سی):سی بی ڈی پنجاب بڑے شہروں بشمول راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان اور بہاولپورمیں مرکزی کاروباری اضلاع قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جو لاہور میں اپنے مرکزی منصوبے کی کامیاب شروعات کے بعد کی جا رہی ہے۔ ادارے سی بی ڈی پنجاب کے سربراہ عمران امین نے ویلتھ پاکستان کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ لاہور میں سرمایہ کاروں کے بھرپور ردعمل اور کامیابی کی بنیاد پر ادارہ پنجاب بھر میں اسی طرز کے منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے فزیبلٹی مطالعات اور حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس توسیع کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو یکجا کرنا، اہم شہری مقامات پر جدید تجارتی مراکز قائم کرنا اور مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے، ساتھ ہی اس کا ہدف صوبے بھر میں متوازن اور پائیدار شہری ترقی کو فروغ دینا بھی ہے۔ عمران امین نے کہا کہ مرکزی کاروباری اضلاع کے مربوط جال کا قیام نئی معاشی سرگرمیوں کو جنم دے گا، پنجاب کی مجموعی اقتصادی صورتحال کو مضبوط کرے گا اور صوبے کو خطے میں نمایاں سرمایہ کاری مرکز کے طور پر سامنے لائے گا۔انہوں نے لاہور کے مرکزی منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعدد بڑے ترقیاتی منصوبے شہری منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں، ان میں ایک جدید شاہراہ شامل ہے جو رابطوں کو بہتر بنانے اور تجارتی مواقع بڑھانے کے لیے تیار کی گئی ہے، ایک ایسی راہداری بھی شامل ہے جو پیدل چلنے والوں کے لیے موزوں طرزِ زندگی فراہم کرے گی جبکہ ایک بڑا میدان بھی زیرِ تعمیر ہے جسے بڑے پیمانے پر تقریبات، تفریح اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی کاروباری ضلع پنجاب تیزی سے ترقی کر رہا ہے جہاں بنیادی ڈھانچے اور عمودی تعمیرات دونوں پر بیک وقت کام جاری ہے جو منصوبہ بندی سے عملی نفاذ کی جانب واضح پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی معیار کے شہری ڈیزائن کو یقینی بنانے کے لیے ادارے نے بین الاقوامی شہرت یافتہ منصوبہ سازوں کی خدمات حاصل اور نمایاں نجی تعمیراتی اداروں کو شامل کیا ہے تاکہ اعلیٰ معیار کے منصوبے مکمل کیے جا سکیں۔شہری امور کے ماہرین نے لاہور اور دیگر شہروں میں ان منصوبوں کے آغاز کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کی معاشی کامیابی مقامی حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنے پر منحصر ہے۔ سابق سربراہ پنجاب اربن یونٹ ڈاکٹر ناصر جاوید نے کہا کہ اگر ان منصوبوں کو ہر شہر کی مخصوص معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے،جیسے فیصل آباد میں برآمدی ٹیکسٹائل خدمات، راولپنڈی میں دفتری معاونت و ٹیکنالوجی خدمات اور ملتان میں نقل و حمل اور زرعی پراسیسنگ،تو یہ پیداواریت اور معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دے سکتے ہیں جو مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گا۔انہوں نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک خصوصاً امریکا کے بڑے شہروں میں مرکزی کاروباری اضلاع نے تاریخی طور پر معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔انہوں نے وضاحت کی کہ نیو یارک، شکاگو اور سان فرانسسکو جیسے شہروں میں یہ اضلاع دہائیوں کے دوران قدرتی طور پر فروغ پاتے رہے اور مالیات، تجارت اور نظم و نسق کے اہم مراکز بن گئے، ان کی مضبوطی وسیع افرادی قوت، جدید بنیادی ڈھانچے، مضبوط اداروں اور عالمی روابط پر مبنی ہے۔ڈاکٹر ناصر جاوید نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ اضلاع صرف دفتری عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل نظام ہوتے ہیں جنہیں مؤثر ٹرانسپورٹ، واضح قواعد و ضوابط اور اعلیٰ انسانی وسائل کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ صرف مغربی طرز کی ظاہری ساخت اپنانے کے بجائے ان کے عملی اصولوں ،جیسے مخلوط استعمال پر مبنی ترقی، ٹرانزٹ کے مطابق منصوبہ بندی، ادارہ جاتی شفافیت اور مسابقتی معاشی شعبوں کے ساتھ ہم آہنگی کو بھی اختیار کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button