
اسلام آباد۔ 21 اپریل (اے بی سی):وفاقی حکومت نے مارچ 2026 کے اختتام تک پی ایس ڈی پی 2025ـ26 کے تحت بلوچستان میں 148 ترقیاتی منصوبوں پر 73.5 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025ـ26 کے دوران ان منصوبوں کیلئے 206 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ ان کی مجموعی منظور شدہ لاگت 1,365 ارب روپے ہے۔ 148 منصوبوں میں سے 137 جاری ہیں جبکہ 11 نئے منظور شدہ منصوبوں کی مجموعی لاگت 152.4 ارب روپے ہے۔کل پورٹ فولیو میں 137 جاری منصوبے نمایاں ہیں جن کی منظور شدہ لاگت 1,212.1 ارب روپے ہے اور مالی سال 2025ـ26 کیلئے ان کیلئے 204.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 152.4 ارب روپے مالیت کے 11 نئے منصوبوں کیلئے 1.2 ارب روپے کی علامتی رقم رکھی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ نے پلاننگ کمیشن کے تعاون سے مالی سال 2025ـ26 کیلئے سہ ماہی اجرا کی حکمت عملی کے تحت متعلقہ وزارتوں اور ڈویڑنز کو ون لائن ریلیز کی پیشگی منظوری دے دی ہے۔شعبہ وار تقسیم کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) 625.3 ارب روپے مالیت کے 19 منصوبوں کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد حکومتِ بلوچستان ہے جو وزارتِ خزانہ کے ذریعے 233.9 ارب روپے مالیت کے 68 منصوبے چلا رہی ہے۔اس کے علاوہ وزارتِ آبی وسائل، پاور ڈویژن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے جو متنوع ترقیاتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔دستاویز کے مطابق 148 منصوبوں میں سے 80 منصوبے صوبائی نوعیت کے ہیں جن کی مجموعی لاگت 413 ارب روپے ہے جبکہ ان کیلئے 36 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ان منصوبوں کا مقصد صوبے میں مقامی انفراسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔علاقہ وار ترقی بھی ترجیح میں شامل ہے بالخصوص گوادر اور کوئٹہ میں۔ گوادر میں 184 ارب روپے لاگت کے 22 منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ کوئٹہ میں 28 ارب روپے مالیت کے 15 منصوبے زیر عمل ہیں۔پلاننگ کمیشن کے مطابق یہ اقدامات بلوچستان میں رابطہ کاری بہتر بنانے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور دیرینہ ترقیاتی خلا کو پْر کرنے کیلئے اہم ہیں، جو قومی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ہیں۔