
اسلام آباد۔13اپریل (اے بی سی):ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی ) کا سرمایہ کاری پورٹ فولیو 28 فروری 2026 تک بڑھ کر 691.91 ارب روپے تک پہنچ گیا، جہاں فکسڈ انکم آلات بدستور فنڈ کے اثاثہ جاتی ڈھانچے اور آمدنی میں غالب رہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ای او بی آئی کی زیادہ تر سرمایہ کاری فکسڈ انکم اثاثوں میں ہے جو مجموعی پورٹ فولیو کا 85.58 فیصد یا 592.12 ارب روپے بنتاہے۔اس زمرے میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز(پی آئی بیز)540.35 ارب روپے کے ساتھ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ ان پر حاصل شدہ منافع 49.61 ارب روپے ہے اور کارپوریٹ فکسڈ انکم 2.16 ارب روپے پر مشتمل ہے۔یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ ای او بی آئی نسبتاً محفوظ اور مستحکم آمدنی کے ذرائع کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ یہ پنشن واجبات کو پورا کرنے کے لیے فنڈز کا انتظام کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایکویٹی میں سرمایہ کاری محدود ہے۔دستاویزات کے مطابق فروخت کے لیے دستیاب ایکویٹی 26.38 ارب روپے جبکہ ٹریڈنگ کے لیے رکھی گئی ایکویٹی 14.86 ارب روپے ہے، جس سے مجموعی ایکویٹی سرمایہ کاری 41.24 ارب روپے یا کل پورٹ فولیو کا 5.96 فیصد بنتی ہے۔ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کا تیسرا بڑا حصہ ہے۔
دستاویزات کے مطابق جائیدادوں کی مالیت 42.36 ارب روپے جبکہ ریئل اسٹیٹ منصوبے 16.20 ارب روپے کے ہیں، یوں مجموعی ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری 58.55 ارب روپے یا 8.46 فیصد بنتی ہے۔دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ان اثاثوں سے آمدنی کیسے حاصل ہو رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے ای او بی آئی کی مجموعی سرمایہ کاری آمدنی کا ہدف 78.89 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ جولائی 2025 سے فروری 2026 تک حقیقی آمدنی 56.453 ارب روپے رہی، جبکہ اسی مدت کے لیے بجٹ تخمینہ 52,593 ملین روپے تھا۔زیادہ تر آمدنی فکسڈ انکم سرمایہ کاری سے حاصل ہوئی۔ جولائی 2025 سے فروری 2026 کے دوران فکسڈ انکم سے 47,151 ملین روپے حاصل ہوئے، جبکہ بجٹ میں یہ رقم 45,391 ملین روپے مقرر تھی۔ایکویٹی نے بھی نمایاں کردار ادا کیا، جہاں حصص پر منافع 4,788 ملین روپے اور کیپیٹل گین 3,751 ملین روپے رہا، یوں مجموعی ایکویٹی آمدنی 8,539 ملین روپے تک پہنچ گئی۔
ریئل اسٹیٹ سے نسبتاً کم مگر مستحکم آمدنی حاصل ہوئی۔ دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 سے فروری 2026 کے دوران کرایہ کی مد میں 764 ملین روپے حاصل ہوئے، جو مقررہ ہدف کے مطابق ہے۔دستاویزات میں شامل وصولیوں اور اخراجات کے علیحدہ بیان کے مطابق جولائی 2025 سے جنوری 2026 تک مجموعی وصولیاں 96,681.04 ملین روپے رہیں، جبکہ بجٹ تخمینہ 99,002.23 ملین روپے تھا۔ ان میں سے کنٹری بیوشنز 48,612.54 ملین روپے اور سرمایہ کاری آمدنی 48,068.50 ملین روپے رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری سے حاصل آمدنی اب باقاعدہ کنٹری بیوشنز کے برابر ہو چکی ہے۔اخراجات کے لحاظ سے اسی مدت میں مجموعی اخراجات 44,622.67 ملین روپے رہے، جن میں سے صرف پنشن کی ادائیگی 42,010.00 ملین روپے تھی۔ انتظامی اخراجات وصولیوں کے مقابلے میں 1.40 فیصد رہے، جو بجٹ میں مقررہ 2.22 فیصد سے کم ہیں۔یوں ای او بی آئی کی مالی پائیداری بنیادی طور پر فکسڈ انکم سرمایہ کاری پر منحصر ہے، جو آمدنی کا بڑا حصہ فراہم کرتی ہے اور پنشن ادائیگیوں کی بنیاد بنتی ہے، جبکہ ایکویٹی اور ریئل اسٹیٹ معاون کردار ادا کرتے ہیں۔