پنجاب میں 1,400 کلومیٹر ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ

Spread the love

لاہور۔20 مئی (اے بی سی):پاکستان ریلوے پنجاب میں تقریباً 1,415 کلومیٹر برانچ لائنوں کی اپ گریڈیشن پر کام کر رہی ہے جبکہ سندھ میں 44.5 ارب روپے سے زائد مالیت کے مضافاتی ریلوے منصوبوں کو بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق وزارتِ ریلوے صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے قومی ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے جامع پروگرام پر کام کر رہی ہے۔ یہ اقدام ملک بھر میں رابطوں کو بہتر بنانے، آپریشنل استعداد میں اضافے اور مسافروں کی نقل و حرکت کو سہل بنانے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔کارگو اور مسافروں کی نقل و حمل میں سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر کراچی سے روہڑی تک مین لائن (ایم ایل-1) کی اپ گریڈیشن کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے۔منصوبہ بندی کے تحت ریلوے ٹریک کی تجدید، پلوں کی بحالی، جدید سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن نظام کی تنصیب اور ٹرینوں کی رفتار اور ایکسل لوڈ کی گنجائش میں اضافہ شامل ہے تاکہ حفاظتی معیار اور آپریشنل کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔کابینہ کی منظوری کے بعد پاکستان ریلوے اور حکومتِ پنجاب نے 16 اپریل 2026 کو ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی اور جدید کاری کے لئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے تھے۔لاہور-راولپنڈی سیکشن کے ساتھ تقریباً 1,415 کلومیٹر پر مشتمل متعدد برانچ لائنوں کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے جن میں راولپنڈی-قصور، پاکپتن-لودھراں، سرگودھا-ملکوال، لالہ موسیٰ-چک جھمرہ-شاہین آباد، شورکوٹ-جھنگ-سرگودھا، شیخوپورہ-شورکوٹ، کوٹ ادو-ڈیرہ غازی خان-کشمور، شاہدرہ-نارووال اور نارووال-سیالکوٹ ریلوے سیکشن شامل ہیں۔

پنجاب محکمہ ٹرانسپورٹ نے منصوبوں کے فزیبلٹی سٹڈیز کے لئے میسرز نیسپاک کی خدمات بھی حاصل کی ہیں جن کے آئندہ آٹھ ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔برانچ لائنوں کی اپ گریڈیشن کے علاوہ، پاکستان ریلوے نے سندھ میں مقامی آبادی کے لئے سفری سہولتیں بہتر بنانے اور علاقائی روابط کو مضبوط بنانے کے لئے مضافاتی ریلوے سروسز بھی تجویز کی ہیں، اس منصوبے کے تحت دو بڑے مضافاتی ریلوے کوریڈورز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پہلا مضافاتی ریلوے روٹ کوٹری سے دادو، لاڑکانہ، حبیب کوٹ، جیکب آباد اور شکارپور کے راستے روہڑی تک جائے گا جس کی مجموعی لمبائی 434 کلومیٹر ہوگی۔ اس روٹ پر انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ڈیزل ملٹی پل یونٹ (ڈی ایم یو) سروسز کی تخمینی لاگت 23 ارب 931 ملین روپے رکھی گئی ہے۔دوسرا مجوزہ مضافاتی کوریڈور حیدرآباد، میرپورخاص، ماروی اور بدین کو آپس میں ملائے گا، جس کی مجموعی لمبائی 300 کلومیٹر ہوگی۔ دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی تخمینی لاگت 20 ارب 593 ملین روپے ہے۔ دونوں مضافاتی ریلوے منصوبوں کی مجموعی لاگت 44 ارب 524 ملین روپے بنتی ہے۔ حکومت دونوں منصوبوں کی منظوری کا عمل پہلے ہی شروع کر چکی ہے۔پاکستان ریلوے نے مزید حتمی مراحل کے لئے مستقبل کے منصوبوں کی تجاویز سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو بھی ارسال کر دی ہیں۔مجوزہ اپ گریڈیشن اور مضافاتی ریلوے سروسز سے سفری وقت میں نمایاں کمی، مسافروں کی سہولت میں بہتری، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ شہری اور دیہی مراکز میں محفوظ اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام کی فراہمی میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button