حکومت نے حیدرآباد–سکھر موٹروے پر کام تیز کر دیا

Spread the love

اسلام آبا-22 مئی (اے بی سی):حکومت نے حیدرآباد–سکھر موٹروے (ایم-6) منصوبے پر کام تیز کر دیا ہےجبکہ منصوبے کے شمالی حصے کی تین سیکشنز مارچ سے مئی 2029 کے درمیان مکمل ہونے کی توقع ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سیکشن IV (نوشہرو فیروز–رانی پور) اور سیکشن V (رانی پور–سکھر) جن کے لئے اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) مالی معاونت فراہم کر رہا ہے، کے لئے پری کوالیفکیشن (پی کیو) نوٹس 13 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا تھا۔ پی کیو جانچ رپورٹ 18 مارچ 2026 کو آئی ایس ڈی بی کو پیش کی گئی جبکہ سول ورکس کے معاہدے ستمبر تا اکتوبر 2026 کے دوران دینے کی توقع ہے۔

اسلامی ترقیاتی بینک نے 29 ستمبر 2025 کو سیکشن IV اور سیکشن V کے لئے 475 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دی تھی جبکہ حکومت پاکستان اور مالیاتی ادارے کے درمیان معاہدے پر 19 جنوری 2026 کو دستخط کئے گئے تھے۔سیکشن III (نواب شاہ–نوشہرو فیروز) جس کی مالی معاونت اوپیک فنڈ کر رہا ہے، کے لئے بولی دستاویزات 26 جنوری 2026 کو منظوری کے لئے اوپیک فنڈ کو ارسال کی گئی تھیں۔

اس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان مختلف تجاویز اور تبصروں کا تبادلہ ہوا، جبکہ حتمی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ رواں ماہ منصوبے کے لئے ٹینڈرز جاری کر دیئے جائیں گے اور معاہدے اکتوبر 2026 تک دیئے جائیں گے۔

اوپیک فنڈ کے بورڈ نے 25 مارچ 2026 کو سیکشن III کے لئے 230 ملین ڈالر کی منظوری دی تھی۔دستاویز کے مطابق سیکشن I (حیدرآباد–ٹنڈو آدم) اور سیکشن II (ٹنڈو آدم–نواب شاہ) کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت تعمیر کیا جائے گا جس کی منظوری قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) دے چکی ہے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) بورڈ نے 11 ستمبر 2025 کو ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کو ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر کرنے کے معاملے کی منظوری دی تھی جبکہ اس کے اجلاس کے منٹس 22 اکتوبر 2025 کو موصول ہوئے تھے۔

بعد ازاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) بورڈ نے 26 مارچ 2026 کو ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی تجویز کی منظوری دی جس کے بعد 21 اپریل 2026 کو ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروس معاہدے (ٹاسا) پر دستخط کئے گئے۔ توقع ہے کہ اے ڈی بی چار ماہ میں اپنی مشاورتی رپورٹ مکمل کرے گا جبکہ رعایتی معاہدہ فروری 2027 تک طے کئے جانے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button