پاکستان بھر میں 57 ہزار سے زائد بی ٹی ایس فعال، ٹیلی کام شعبے میں توسیع کا عمل تیز

Spread the love

اسلام آباد۔21مئی (اے بی سی):پاکستان کا ٹیلی کام شعبہ نمایاں ترقی کی جانب گامزن ہے جہاں ملک بھر میں اس وقت 57,044 بیس ٹرانسیور سٹیشنز (بی ٹی ایس) فعال ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب تازہ انفراسٹرکچر اعدادوشمار کے مطابق جاز 16,247 بی ٹی ایس سائٹس کے ساتھ مارکیٹ میں سرفہرست ہے جن میں 16,003 فور جی سہولت سے آراستہ سٹیشنز شامل ہیں۔ سی ایم پاک 15,882 بی ٹی ایس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہےجس کے نیٹ ورک میں ٹو جی، تھری جی اور فور جی خدمات کا متوازن نظام موجود ہے۔اسی طرح ٹیلی نار 13,034 بی ٹی ایس سائٹس چلا رہا ہے جبکہ یوفون کے پاس 11,881 بی ٹی ایس تنصیبات موجود ہیں جو ملک بھر میں موبائل سروسز کی فراہمی میں معاون ہیں۔مجموعی طور پر پاکستان میں اس وقت 57,029 ٹو جی سٹیشنز، 33,308 تھری جی سٹیشنز اور 55,088 فور جی سٹیشنز موجود ہیں۔تازہ اعدادوشمار ملک میں تیز رفتار فور جی رابطوں کی جانب بڑھتے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ ٹو جی اور تھری جی نیٹ ورکس اب بھی شہری اور دیہی علاقوں میں لاکھوں صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔فور جی انفراسٹرکچر میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ملک بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل خدمات اور موبائل رابطوں کی بڑھتی ہوئی طلب کا عکاس ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں ایک جامع اور مستقبل پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ معیشت، طرز حکمرانی، تعلیم، صحت اور جدت میں رابطوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے نئی نسل کی ٹیکنالوجیز، خصوصاً فائیو جی اور مستقبل کے نیٹ ورک انفراسٹرکچر کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کے لئے ایک جامع قومی فریم ورک متعارف کرایا ہے۔ڈیجیٹل شمولیت اور کم لاگت خدمات کو فروغ دینے کے لئے حکومت مقامی سطح پر موبائل ڈیوائسز کی تیاری اور موبائل ایکو سسٹم کی مضبوطی کے اقدامات بھی کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے توانائی کی بچت اور مخصوص پاور حل پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ملک بھر میں قابلِ اعتماد خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔براڈ بینڈ کے پھیلاؤ کو مزید فروغ دینے کے لئے حکومت نے ایک متحدہ قومی پالیسی اختیار کی ہے جس کے تحت وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) چارجز ختم کر دیئے گئے ہیں۔ اس اہم فیصلے سے فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھانے کی لاگت اور درکار وقت میں نمایاں کمی آنے، براڈ بینڈ کی رسائی میں اضافے اور خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔ان اصلاحات کو قانونی بنیاد فراہم کرنے کے لئے پاکستان ٹیلی کام ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر بھی کام جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button